مصری الیکشن کمیشن کی کمیٹی نے صدارتی انتخاب لڑنے والے تین سرکردہ امیدواروں کے خلاف انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا کیس پراسیکیوشن جنرل کو ارسال کر دیا ہے۔ صدارتی امیدواروں عبدالمنعم ابوالفتوح، محمد مرسی اور عمرو موسیٰ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے انتخابات کے دوران تشہیری مہم کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے۔
العربیہ ٹی وی نے مصری الیکشن کمیشن کی کمیٹی کے ایک بیان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تینوں امیدواروں نے صدارتی انتخاب کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جامعہ الازہر کے اسیوط کیمپس میں انتخابی جلسے منعقد کئے۔ ان امیدواروں نے مصری شہر منصورہ اور اسیوط کی جامعات میں بھی کارنر میٹنگز منعقد کیں۔
انتخابی کمیٹی نے قراردیا ہے کہ جامعات میں انتخابی مہم قانون کی خلاف ورزی ہے اور صحیح معنوں میں جرم کی ذیل میں آتا ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ بعض صدارتی امیدوار خود الیکشن کمیشن کے خلاف بیان بازی میں "ملوث" ہیں، اس لئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب الیکشن کمیٹی نے انتخابی دوڑ سے باہر کئے جانے والے اخوان کے امیدوار حیرت الشاطر اور سلفی رہنما حازم ابو اسماعیل کے خلاف مقدمات بھی پراسیکیوشن جنرل کے حوالے کئے ہیں۔
حیرت الشاطر پر انتخابی کمیٹی کی توہین کا الزام عائد کیا گیا ہے تاہم ابو اسماعیل کے خلاف اپنے کاغذات نامزدگی میں خلاف حقیقت معلومات فراہم کرنے کے الزام میں کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔