اردن کی حزب اختلاف نے ملک کی نئی کابینہ پر تنقید کی ہے اور اسے اصلاحات کے منصوبے کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔
اردن کی اخوان المسلمون کے ترجمان جمیل ابوبکر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''نئی حکومت اصلاحات کے لیے ایک دھچکا ہے اور اس کی ہئیت ترکیبی سے عرب بہار سے قبل کی ذہنیت کا اظہار ہوتا ہے''۔
انھوں نے کہا کہ ''حکومت اور بہ ذات خود وزیر اعظم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ ماضی کی باقیات ہیں ۔اس سے لوگوں کو یہ تسلی نہیں ہو گی کہ ملک میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے کیونکہ وزیر اعظم قدامت پسند ہیں اور اصلاحات کے بارے میں ان کا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے''۔
اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ اسلامی محاذ عمل کے سربراہ حمزہ منصور نے ایک بیان میں کہا کہ ''وزیر اعظم فايز الطراونة کا عہدہ اور ان کی کابینہ میں شامل وزراء اس بات کا مظہر ہیں کہ ان میں اصلاحات کے لیے کوئی عزم نہیں پایا جاتا''۔
انھوں نے کہا کہ ''یہ سنئیر بیوکریٹس پر مشتمل بہت ہی روایتی حکومت ہے۔اس مرحلے پر اردن کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو لوگوں کا اعتماد حاصل کرسکے اور ان کے مطالبات کو پورا کر سکے''۔
اردن کے نئے وزیر اعظم فايز الطراونة کی قیادت میں تیس رکنی کابینہ نے گذشتہ روز حلف اٹھایا تھا۔ فايز الطراونة گذشتہ چودہ ماہ میں اردن کے چوتھے وزیر اعظم ہیں۔ شاہ عبداللہ اکثر قبائلی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت ہی کو تبدیل کر دیتے ہیں لیکن حال ہی میں خود اردنی شاہ کو ان قبائلیوں کی جانب سے پہلی مرتبہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسے ان کے لیے خطرے کی گھنٹی قراردیا جارہا ہے۔
نئی کابینہ میں ایک خاتون سمیت بیس نئے چہرے شامل کیے گئے ہیں۔سابق رکن پارلیمان غالب زوبی کو اردن کا نیا وزیر داخلہ بنایا گیا ہے اور نادیہ ہاشم کو خواتین کی امور کی وزیر مملکت مقرر کیا گیا ہے۔ شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ جمعرات کو سابق وزیر اعظم عون الخصاونة کا استعفیٰ منظور کرنے کے بعد فايز الطراونة کو وزیر اعظم نامزد کر کے حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔ عون الخصاونة اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
شاہِ اردن نے فايز الطراونة کو اس سال کے آخر میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد تک عبوری دور کے لیے حکومت بنانے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ انتخابات کے ضمن میں درکار اصلاحات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ شاہ عبداللہ نے گذشتہ جمعرات کو سبکدوش وزیر اعظم کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ ''وہ اصلاحات کے نفاذ کے لیے سست روی سے کام کر رہے تھے لیکن اردن مطلوبہ اصلاحات کے لیے مزید کسی تاخیرکا متحمل نہیں ہو سکتا تھا''۔
عالمی عدالت انصاف کے سابق جج عون الخصاونة قریباً چھے ماہ بر سر اقتدار رہے تھے۔انھوں نے گذشتہ سال اکتوبر میں نئی حکومت بنائی تھی اور دسمبر میں پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے ملک میں اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
عون الخصاونة نے اپنے مختصر دور حکومت میں بعض سیاسی اور اقتصادی اصلاحات متعارف کرائی تھیں لیکن انھیں ان کے متعارف کردہ مجوزہ انتخابی قانون پر قبائلی ارکان پارلیمان اور طاقتور انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مخالفین کے خیال میں مجوزہ قانون میں اسلامی جماعتوں سے وابستہ سیاست دانوں کی طرف داری کی گئی تھی۔
گذشتہ جمعہ کو ایک ہزار سے زیادہ افراد نے عمان کے وسط میں اصلاحات کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔ انھوں نے نامزد وزیر اعظم فايز الطراونة پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پالیسیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں، صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں۔اسلام پسندوں کا کہنا ہے کہ ''نئے انتخابی قوانین میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے قبائلیوں کی حمایت کی گئی ہے''۔
واضح رہے کہ دوسرے عرب ممالک کی طرح اردن میں بھی گذشتہ سال جنوری سے سیاسی اصلاحات کے حق میں وقفے وقفے سے مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے نمائندے ملک میں حقیقی آئینی اصلاحات کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔