شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں ایک جامعہ کے کیمپس پر صدر بشارالاسد کی فورسز نے حکومت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے چھاپہ مار کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں چار طلبہ جاں بحق ہوگئے ہیں اور دوسو سے زیادہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
حلب سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن محمد الحلبی نے بتایا ہے کہ ''طلبہ کو کیمپس میں داخلے سے روک دیا گیا ہے اور جامعہ کے ہوسٹلوں کو بھی تاحکم ثانی بند کردیا گیا ہے''۔جامعہ حلب نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''13 مئی کو فائنل امتحانات کے آغاز تک کلاسیں معطل رہیں گی''۔
شامی سکیورٹی فورسز نے جامعہ کے ہوسٹلوں میں جمعرات کی صبح چھاپہ مار کارروائی کی اور طلبہ اور ان کے سامان کو وہاں سے نکال باہر کیا۔سکیورٹی اہلکاروں نے بعض کمروں کو آگ بھی لگادی۔
ایک طالب علم ثائرالاحمد نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور حکومت کے حامی مسلح افراد نے بدھ کی رات جامعہ حلب کے ہاسٹلوں میں داخل ہوکر طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور براہ راست فائرنگ کی۔ حکومت مخالف کارکنان نے بتایا ہے کہ جامعہ حلب میں گذشتہ کئی روز سے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے جارہے تھے جس کے بعد سرکاری سکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن کیا ہے۔
شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق جامعہ حلب میں فوجیوں اور حکومت کے مسلح حامیوں کی کارروائی میں چارطلبہ مارے گئے ہیں اور دوسو سے زیادہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔اس کارروائی میں اٹھائیس طلبہ زخمی ہوئے ہیں جن میں تین کی حالت تشویش ناک ہے۔
العربیہ ٹی وی نے شامی انقلاب کمیشن کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کو ملک بھر میں سرکاری فورسز کی فائرنگ کے واقعات میں مزید سات افراد مارے گئے ہیں۔آج دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے الصالحیہ سمیت مختلف شہروں اور قصبوں میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
درایں اثناء امریکا کے ایک سرکردہ سینٹر جوزف لائبرمین نے لبنان میں شامی مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کیا ہے اور وہاں مقیم شامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اختلاف کو اپنی حمایت کا مکمل یقین دلایا ہے۔انھوں نے لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے اور امریکی سینٹ میں میرے بہت سے ساتھیوں کو شامی فورسز کی حکومت مخالفین کے خلاف کارروائیوں پر تشویش لاحق ہے''۔
انھوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ خطے کے لوگوں اور پوری دنیا نے شامی حزب اختلاف کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا۔انھوں نے شامی بحران سے متعلق لبنانی حکومت کے موقف کو سراہا حالانکہ اسے صدربشارالاسد کی اتحادی جماعت حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے لیکن اس نے شام کے بحران کے حوالے سے غیرجانبداری اختیار کررکھی ہے۔