منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 13 جمادى الثانية 1433هـ - 04 مئی 2012م KSA 09:13 - GMT 06:13

پارلیمنٹ حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے کی مجاز ہو گی

بحرین: پارلیمنٹ کو حکومت کے خاتمے کا آئینی اختیار حاصل

جمعہ 13 جمادى الثانية 1433هـ - 04 مئی 2012م
دبئی ۔ بارا الانذری

خلیجی ریاست بحرین میں ملک کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے اپوزیشن سمیت تمام قومی سیاسی دھاروں سے مذاکرات کے بعد آئین میں جزوی ترامیم کی ہیں۔ آئین میں ترمیم کے بعد پارلیمنٹ کو حکومت سے زیادہ با اختیار بنایا گیا ہے۔ ترمیم شدہ آئین کے آرٹیکل اکیس کے تحت پارلیمنٹ حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے اور اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی مجاز ہو گی۔ یوں پارلیمنٹ اگر حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو وہ حکومت کو تبدیل کرنے کی مجاز ہو گی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق آئین میں ترمیم کے بعد شاہ بحرین شیخ حمد عیسیٰ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ نئے آئین کے تحت پارلیمنٹ حکومت پر ایک "نگران" ادارے کی حیثیت سے کام کرے گی۔ حکومت کی کارکردگی پر چیک اینڈ بیلنس کا بہترین طریقہ پارلیمنٹ کو با اختیار بنانا ہے۔

بحرین میں سیاسی اور آئینی امور کے ماہر اور تجزیہ نگار ڈاکٹر صقر عید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے آئین میں کی گئی ترامیم پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم شدہ دفعات میں سب سے اہم دفعہ اکیس بتائی جا رہی ہے جس میں پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ آئین کی اس شق کے تحت کوئی بھی حکومت پہلے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گی۔

اگر پارلیمنٹ کسی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوئی تو حکومت کو تیس دن کے اندر اندر اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی مہلت دے گی۔ اگر حکومت پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی تو مزید اکیس دن کی مہلت فراہم کرے گی۔ دوسری مرتبہ بھی حکومت ناکام رہی تو پارلیمنٹ کو اسے ہٹانے اور نئی حکومت کی تشکیل کا اختیار ہو گا۔

قبل ازیں شاہ بحرین نے آئین میں کی گئی ترامیم کے بارے میں اپنی قوم کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کوئی جامد چیز نہیں بلکہ اس میں اصلاحات کا عمل جاری رہتا ہے۔ انہوں نے مختلف سیاسی دھاروں کے ساتھ مشاورت کے بعد آئین میں ضروری تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ تبدیلیاں اتفاق رائے سے کی گئی ہیں جن کا مقصد پارلیمنٹ کو زیادہ سے زیادہ با اختیار بنانا ہے۔

خیال رہے کہ آئین میں ترمیم کے بعد مجلس شوریٰ کے اختیارات میں کمی کی گئی ہے اور اسکے مقابلے میں پیپلز کونسل (قومی اسمبلی) کے اختیارات بڑھائے گئے ہیں۔ مجلس شوریٰ اور قومی اسمبلی کے اراکین کے انتخابات کے سلسلے میں قواعدو وضوابط میں تبدیلی لائی گئی ہے اور رکن بننے کے لیے مزید سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔

آئین میں لائی گئی تبدیلیاں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے تجویز کنندہ ترامیم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں الگ الگ بحث کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بحرین میں ایک سال قبل سیاسی اور آئینی بحران اس وقت پیدا ہوا جب اہل تشیع کی مختلف سیاسی جماعتوں نے ایک انقلابی تحریک چلانے کی کوشش کی گو کہ حکومت نے اس تحریک کو دبا دیا تاہم ملک کے اندر سے پارلیمنٹ کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جانے کے مطالبات میں شدت آتی گئی جس کے بعد شاہ بحرین نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے آئین میں ضروری ترامیم لانے کا وعدہ کیا تھا۔