سیاسی حلقوں کی تنقید کے جلو میں علامہ یوسف القرضاوی کا دورہ تیونس
"ڈاکٹر قرضاوی جمہوریت اور متعدل اسلام کے نمائندہ ہیں"
قطر کے مفتی اعظم اور ممتاز اسلامی اسکالر ایک سال قبل برپا ہونے والے انقلاب کے بعد پہلے دورے پر تیونس پہنچے ہیں۔ تاہم بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے ان کی آمد پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ اسلامی اسکالر تیونس میں متنازعہ نوعیت کے موضوعات پر تقاریر کرتے ہیں جس سے تیونسی معاشرے میں تفریق جنم لیتی ہے۔ دوسری جانب شیخ یوسف القرضاوی کی میزبان اور ملک کی حکمران جماعت "تحریک النہضہ" نے شیخ قرضاوی کو مدعو کیے جانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی دنیا میں اعتدال پسند اسلام اور جمہوریت کی زندہ علامت ہیں۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق قطری عالم دین کل تین مئی بروز جمعرات اپنے چار روزہ دورے پر دارالحکومت تیونسیہ پہنچے، جہاں وہ چھے مئی تک قیام کریں گے۔ اس دوران وہ عالمی علماء کونسل کے نائب صدر اور حکمران جماعت النہضہ کے سربرہ علامہ راشد الغنوشی کے ہمراہ دارالحکومت تیونسیہ، القیروان، قابس اور سوسہ جیسے بڑے شہروں میں عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کریں گے۔
شیخ یوسف القرضاوی کے ما بعد انقلاب پہلے دورہ تیونس پر تبصرے کے لیے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے تحریک النہضہ کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن اور میڈیا کے انچارج نجیب العربی سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری حکومت نے شیخ یوسف القرضاوی کو بہت پہلے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم وہ ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ان کی بارعب شخصیت کی وجہ سے انہیں بلانے میں تاخیر ہو گئی۔ علامہ یوسف القرضاوی ایک عالمی شخصیت ہیں اور وہ دنیا میں آزادی، انسانی حقوق، جمہوریت اور اعتدال پسند اسلام کے نمائندہ ہیں۔ یہ یوسف القرضاوی ہی تھے جنہوں نے تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف عوامی انقلاب کی تحریک کی حمایت کی تھی اور سابق صدر سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا تھا"۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیخ یوسف القرضاوی نے ہمیشہ تحمل اور رواداری کا درس دیا اور وہ خود بھی اعتدال پسند اسلام کا ایک قابل تقلید نمونہ ہیں۔ ان کے دورہ تیونس سے ہمارے معاشرے میں مل جل کر رہنے، آزای اور دوسرے کی آراء کو برداشت کرنے کی روایات کے فروغ میں مدد ملے گی۔
شیخ القرضاوی کے دورہ تیونس پربات کرتے ہوئے تیونس کے صحافی اور ممتاز تجزیہ کار محمد العالی نے کہا کہ "اخلاقی پہلو سے شیخ القرضاوی کے دورے پراعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب تک انقلاب کے بعد عالمی سطح کے جتنے بھی علماء تیونس ائے ہیں، ان میں شیخ یوسف القرضاوی اپنی ایک خاص پہچان اور مقام رکھتے ہیں۔ شیخ قرضاوی سیاسی ثقافت اور معاشرتی روایات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ تیونس کے عوام کو اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے اور کن امور سے اجتناب برتنا چاہیے"۔
محمد العالی نے شیخ یوسف القرضاوی کے دورہ تیونس کی مخالفت کرنے والے حلقوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قطعی طورپر نا مناسب ہے کہ ہم شیخ القرضاوی جیسی شخصیت کی آمد پران کے خلاف احتجاج کریں۔ ہم سب تیونسی مسلمان ہیں۔ ہمیں مسلمان اور کافر کے دائروں میں بٹنےکےبجائے ایک قوم کے طورپر رہنا چاہیے۔ یہ بات کسی بھی گروپ کے لیے مناسب نہیں کہ وہ شیخ یوسف القرضاوی کی آمد کو اپنی اپنی انتخابی مہمات کا موضوع بنا لے۔