پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ 50 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ آور ایک نو عمر لڑکا تھا۔
اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور نے باجوڑ ایجنسی کے اہم شہر کھر کی مصروف مارکیٹ میں موجود پولیس چیک پوائنٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
خبر رساں ادارے رائیٹرز نے علاقے میں ایک سینئر حکومتی اہلکار عبدالحسیب کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے میں 15 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایک اور اہلکار کے مطابق اس دھماکے میں ایک سینئر پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقے کو سِیل کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 18 ہے۔ ان میں 11 عام شہری جبکہ سات پولیس اہلکار ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں قبائلی پولیس فورس کے ایک سینئر افسر بھی شامل ہیں، جنہیں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز میں نمایاں کردار ادا کرنے پر حال میں پاکستانی صدر کی طرف سے قومی ایوارڈ دیا گیا تھا۔
مقامی پولیس اہلکار نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں ارد گرد موجود دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ خار کے ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ کے سربراہ خلیل خان نے کا کہنا ہے وہاں 18 لاشیں جبکہ 50 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔
اس دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی۔ یہ خودکش حملہ القاعدہ کے بانی رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ایک سال مکمل ہونے کے محض دو دن بعد ہوا ہے۔ گزشتہ برس ایبٹ آباد میں امریکی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اسامہ بن لادن کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ روز باجوڑ ایجسنی میں ہی سڑک کنارے نصب دو بم پھٹنے سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں دو قبائلی عمائدین جبکہ تین سکیورٹی اہلکار تھے۔