منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 13 جمادى الثانية 1433هـ - 04 مئی 2012م KSA 09:48 - GMT 06:48

کسی شخص کا انفرادی فعل دوستی میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے: مصر

مصر سے تعلقات بگاڑنے میں غیر ملکی سازش کا ہاتھ ہو سکتا ہے: سعودی عرب

جمعہ 13 جمادى الثانية 1433هـ - 04 مئی 2012م
سعد الکتانی کی سربراہی میں مصری وفد شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کر رہا ہے
سعد الکتانی کی سربراہی میں مصری وفد شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کر رہا ہے
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے برادر ملک مصر کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض غیر ملکی سازشی ہاتھ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے بگاڑ کا باعث ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات مصری پارلیمنٹ کے اسپیکر کی سربراہی میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والی اعلیٰ سطحی اختیاراتی وفد کی ریاض آمد پر اس سے ملاقات کے دوران کہی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق مصری اسپکر ڈاکٹرسعد الکتاتنی کی سربراہی میں پارلیمانی وفد کے ساتھ سعودی وزیر خارجہ کی طویل بات چیت نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ شہزادہ الفیصل نے دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعاون کی اہمیت کا اعتراف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ کچھ غیر ملکی ہاتھ مصر اور سعودی عرب کی دوستی میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصری پارلیمانی وفد کی ریاض آمد پرخادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز سمیت ان کی عوام کو بھی دلی مسرت ہے۔ سعودی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ مصری پارلیمنٹ کے وفد کی آمد جذبہ خیر سگالی اور دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ ہم مہمان وفد کو یقین دلاتے ہیں کہ سعودی عرب اور مصر کے درمیان بھائی چارے اور دوستی کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

شہزادہ الفیصل نے مصری اسپیکر ڈاکٹر سعد الکتاتنی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مصری شہریوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی تعمیرو ترقی میں مصری بھائیوں کا خون پسینہ بھی شامل ہےَ۔ اس وقت بھی سعودی عرب میں ہزاروں مصری شہری مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سعودی عرب میں دوسری قومیتوں کے لوگ بھی موجود ہیں لیکن مصری تارکین وطن باقی لوگوں کی نسبت زیادہ نظم وضبط کےپابند اور حسن اخلاق کے مالک ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے مہمان وفد کے ساتھ بات چیت میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، سفارتی تعلقات برقرار رکھنے اور دو طرفہ تجارت کے فروغ کی اہمیت پر تفصیل سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ مصر کا مفاد سعودی عرب کا مفاد ہے۔ جب مصری شہریوں کو کوئی نقصان اور دکھ پہنچتا ہے تو سعودی عرب کے عوام بھی اس دکھ کو محسوس کرتے ہیں اور رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔

حالیہ سفارتی کشیدگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بے مثال تھے۔ لیکن حالیہ بحران کی گھتیاں سلجھاتے ہوئے انہیں ایسے لگ رہا ہے کہ اس بحران کا اصل ذمہ دارہ قاہرہ یا ریاض نہیں بلکہ کچھ غیر ملکی ہاتھ اس کے پیچھے کار فرما ہے، جسے دونوں بڑے اسلامی ملکوں کی اٹوٹ دوستی برداشت نہیں ہے۔

اس موقع پر مصری وفد کے سربراہ ڈاکٹر سعد الکتاتنی نے سعودی حکومت کی طرف سے جذبہ خیر سگالی کے اظہار پر شہزادہ سعود الفیصل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں زیر حراست مصری شہری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک شخص کا انفرادی فعل دونوں ملکوں کی دوستی پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفد صرف مصری پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ پوری قوم کا نمائندہ بن کر سعودی عرب میں آیا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو کیسے معمول پر لایا جا سکتا ہے ۔نیز یہ معلوم کیا جائے ک اس سلسلے مین سعودی عرب کا موقف کیا ہے۔

ڈاکٹر الکتاتنی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو سعودی عرب جیسے مخلص دوستوں کی اشد ضرورت ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ بحرانی حالات میں مصری عوام کو سہارا دیا ہے۔ ایسے میں ہم مملکت کی خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے۔ ہمیں ما بعد انقلاب ملک میں جمہوریت کےفروغ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سعوی حکومت اور عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ہماری معیشت بھی زوال کا شکار ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب ہماری امیدوں کا مرکز ہے۔ مصری شہری سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر اور وطن سمجھتے ہیں۔ ایسے میں کسی فرد کی انفرادی غلطی سے دونوں ملکوں کے درمیان محبت اور دوستی کا رشتہ متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے مصر اور سعودی عرب کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی تھی جب سعودی حکام نے منشیات کیس کے الزام میں زیرحراست مصری وکیل کو کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔ اس پر مصری انقلابی کارکن مشتعل ہو گئے تھے اور انہوں نے قاہرہ مین سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پرحملے کی کوشش کی۔ اس پر سعودی عرب نے قاہرہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔

مصری پارلیمانی وفد کی آمد بھی دونوں ملکوں کے درمیان متاثر ہونے والے سفارتی تعلقات کو معمول پرلانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ توقع ہے کہ مصری وفد سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات کرے گا۔