منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 14 جمادى الثانية 1433هـ - 05 مئی 2012م KSA 08:08 - GMT 05:08

نماز جمعہ کے بعد صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہرے

شام: عالمی مبصرین کی موجودگی میں تشدد کا سلسلہ جاری، 43 ہلاک

جمعہ 13 جمادى الثانية 1433هـ - 04 مئی 2012م
حماہ کے علاقے اربعین میں اقوام متحدہ کی مبصرین شامی بچوں سے گفتگو کر رہی ہیں
حماہ کے علاقے اربعین میں اقوام متحدہ کی مبصرین شامی بچوں سے گفتگو کر رہی ہیں
دمشق ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

شام میں اقوام متحدہ کی مبصرین کی موجودگی کے باوجود صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر شامی حکومت نے جنگ بندی کا احترام نہیں کیا تو اس کے خلاف اضافی پابندیوں پر غور کیا جائے گا۔

شامی مانیٹرنگ گروپ کی اطلاع کے مطابق جمعہ کو سکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ سے زیادہ تر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔بالونی جیل میں سکیورٹی فورسز نے ایک قیدی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد وہاں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔وسطی شہر حماہ میں فوجیوں نے ایک چوک میں گاڑی پر فائرنگ کرکے تین افراد کو ہلاک کردیا ہے۔شمال مغربی شہر ادلب میں متعدد مقامات سے دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

شام کے دارالحکومت دمشق ، اس کے نواحی قصبوں، دوسرے بڑے شہر حلب ،وسطی شہر حماہ اور مشرقی شہر دیر الزور سمیت مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں نماز جمعہ کے بعد صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔اس مرتبہ مظاہروں کا عنوان ''انقلاب سے ہماری وفاداری میں نجات'' تھا۔

حماہ میں مظاہرین نے اقوام متحدہ کے مبصرین کے خلاف پوسٹرز اٹھا کر احتجاجی ریلی نکالی اوران کا کہنا تھا کہ شام میں گذشتہ ایک سال سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاکتوں کو سلسلہ جاری ہے لیکن عالمی مبصرین کو ابھی ہلاکتوں کے ثبوت درکار ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ شام میں عنان امن منصوبے پرمشکلات کے باوجود عمل درآمد جاری ہے اور گذشتہ ایک سال سے جاری بحران کو صرف ایک دن یا ایک ہفتے میِں حل نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے جمعہ کو ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر شامی حکومت نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کا احترام نہ کیا تو اس کے خلاف اقوام متحدہ کی اضافی قراردادوں پر غور کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اعتباریت داؤ پر لگی ہوئی ہے اور چین ،امریکا سمیت عالمی برادری کو شامی حکومت کو اپنے مخالفین کے خلاف کارروائیوں پر قابل احتساب بنانا ہو گا۔