منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 14 جمادى الثانية 1433هـ - 05 مئی 2012م KSA 08:06 - GMT 05:06

170مظاہرین گرفتار، فوج کا قانونی اقدامات کا اعلان

قاہرہ: عباسیہ میں جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ، 2 ہلاک، 300 زخمی

جمعہ 13 جمادى الثانية 1433هـ - 04 مئی 2012م
قاہرہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے دارالحکومت قاہرہ کے وسطی علاقےعباسیہ میں مظاہرین اور فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی رات گیارہ بجے سے ہفتہ کی صبح سات بجے تک کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

میڈیکل ذرائع اور وزارت صحت کے مطابق عباسیہ میں وزارت دفاع کے باہر فوج مخالف مظاہرین اور فوجیوں کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور دو سو چھانوے زخمی ہو گئے ہیں۔ان میں سے ایک سو اکتیس کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

فوجی پراسیکیوشن کا کہنا ہے جھڑپوں میں ملوث ایک سو ستر افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مصر کی حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عباسیہ میں رونما ہونے والے واقعات میں ملوث افراد اور ان کو ہوا دینے والے عناصر کے خلاف تمام قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ کونسل کے ایک رکن میجر جنرل مختار المولا نے سرکاری ٹی وی پر نشری ایک بیان میں عباسیہ میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا۔

اس سے قبل قاہرہ کے تحریر چوک اور وسطی علاقے عباسیہ میں ہزاروں افراد نے اسلامی جماعتوں کے صدارتی امیدواروں کی نااہلی اور مظاہرین پر تشدد کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی تھیں۔ عباسیہ میں وزارت دفاع کے باہر گذشتہ ہفتے کے روز سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

مظاہرین نے وزارت کی عمارت کے گرد حصار کے لیے لگائے گئے خاردار آہنی تار کاٹنے کی کوشش کی جس کے بعد وہاں تعینات سیکڑوں فوجی ان کے مدمقابل آ گئے۔ اس پر مظاہرین نے فوجیوں کی جانب پتھراؤ کیا۔ اس کے جواب میں فوجیوں نے بھی کارروائی شروع کر دی اور مظاہرین کی جانب پتھر پھینکے۔ ان جھڑپوں میں کسی فوجی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

وزارت دفاع کے باہر مظاہرے میں نا اہل قرار دیے گئے سلفی صدارتی امیدوار حازم صالح ابو اسماعیل کے حامی بڑی تعداد میں شریک تھے اور ملک کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون کی اپیل پر قاہرہ کے تحریر چوک میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرین پر تشدد اور صدارتی امیدواروں کی نااہلی کے خلاف نماز جمعہ کے بعد ریلی نکالی۔ انھوں نے گذشتہ سال سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی تصاویر والے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔

مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں بھی حکمران فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مصر میں بعد از انقلاب پہلے صدارتی انتخابات کے انعقاد کے صرف تین ہفتے قبل یہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور بہت سے مظاہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان انتخابات میں فوج کے حامی امیدوار کے حق میں دھاندلی کی جا سکتی ہے۔

قاہرہ کے علاقے عباسیہ میں بدھ کو وزارت دفاع کے نزدیک مظاہرین اور نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے درمیان جھڑپوں میں بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس موقع پر نامعلوم حملہ آوروں نے وزارت دفاع کے باہر نااہل قرار پائے سلفی صدارتی امیدوار حازم صالح ابو اسماعیل کے حامیوں پر اچانک دھاوا بول دیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے مظاہرین پر سیمنٹ بموں، پتھروں اور آنسو گیس کے کنستروں سے حملہ کیا تھا لیکن اس دوران فوجیوں نے کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔

لیکن جمعہ کو مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کے ایک رکن میجر جنرل مختار المولا نے مظاہرین کو سختی سے خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے وزارت دفاع کی جانب آنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انھوں نے قاہرہ میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ وزارت دفاع، تمام فوجی یونٹ اور تنصیبات فوجی وقار کی علامت ہیں اور ریاست کی عزت ہیں جو کوئی ان کی جانب آنے کی کوشش کرے گا، وہ خود ہی اس کا ذمے دار ہو گا۔

واضح رہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف انقلاب برپا کرنے والے مصری اور اسلامی جماعتیں حکمران فوجی کونسل سے فوری طور پر اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ فوجی جرنیلوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات پرعمل پیرا ہیں اور اس کے تحت ہی انتقال اقتدار کے عمل کو عملی جامہ پہنائیں گے۔