سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے قاہرہ میں متعین سعودی سفیر کو واپس جانے اور وہاں سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی اطلاع کے مطابق شاہ عبداللہ نے سفیر عبدالعزیز قطان کو آیندہ اتوار کو قاہرہ پہنچ کر اپنی ذمے داریاں سنبھالنے اور سفارت خانے کے علاوہ اسکندریہ اور سوئز میں قائم قونصل خانے کھولنے کی ہدایت کی ہے۔
سعودی شاہ کی جانب سے جمعہ کو اس فیصلہ کا اعلان ان سے ریاض میں مصری پارلیمان کے اسپیکر سعد الکتاتنی کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔ مصری وفد دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی ختم کرنے کے سلسلہ میں جمعرات کو ریاض پہنچا تھا۔
شاہ عبداللہ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے سفارتی عملے کے تحفظ اور منفی مضمرات سے بچنے کے لیے اپنے سفیر کو واپس بلایا تھا اور سفارت خانہ بند کیا تھا''۔ سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ ''جو کچھ حال ہی میں ہوا ہے، اس سے ہر مصری اور سعودی شہری کا دل دکھا ہے''۔
شاہ عبداللہ نے بڑے مصری وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ''اس کی آمد میرے لیے خوشی کا ایک ذریعہ ہے اور میں اس با وقار مقام سے صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس بحران کو زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہنے دیں گے''۔
پارلیمان کے اسپیکر ڈاکٹر سعد الکتاتنی کے علاوہ مشاورتی کونسل کے رکن احمد فہمی بھی مصری وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ وفد نے شاہ عبداللہ سے درخواست کہ وہ سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیں اور سعودی سفیر کو ہمارے ساتھ ہی واپس طیارے پر قاہرہ بھیجیں۔ انھوں نے کہا کہ قاہرہ سے مصری سفیر کی واپسی ہمارے لیے بڑی تکلیف دہ تھی۔
واضح رہے کہ مصریوں کے ایک چھوٹے سے گروپ نے سترہ اپریل کو جدہ کے ہوائی اڈے پر ایک مصری وکیل اور انسانی حقوق کے علمبردار احمد غزاوی کی گرفتاری کے خلاف قاہرہ میں سعودی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور سفارت خانے اور دونوں قونصل خانوں کو بند کر دیا تھا۔
سعودی سفیر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ وکیل احمد محمد الغزاوی کے سامان میں سے سکون آور ممنوعہ دوا ژاناکس کی اکیس ہزار سے زیادہ گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔ یہ ادویہ مبینہ طور پر بچوں کے دودھ والے ڈبوں اور قرآن مجید کے دو نسخوں میں چھپائی گئی تھیں۔
تاہم بہت سے مصریوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وکیل غزاوی کو سعودی حکومت پر تنقید کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں ان کی عدم موجودگی میں ایک سال قید اور بیس کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
سعودی سفیر عبدالعزیز قطان نے ایم بی سی ون ٹی وی کے پروگرام ''ثمانیہ'' میں اگلے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قاہرہ میں مظاہروں میں ''تیسرے فریق'' کا ہاتھ کار فرما تھا اور چار سو کے لگ بھگ افراد نے تیسرے فریق کے ہاتھوں کھلونا بن کر مظاہرے کیے تھے۔ اس دوران اگر سفارت خانے یا قونصل خانے کے عملے کے کسی رکن پر حملہ کر دیا جاتا تو اس سے مسائل پیدا ہو جاتے۔ ان کے بہ قول مصریوں کی ایک حقیر اقلیت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہے اور سفیر کو واپس بلانے کا مطلب دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بچانا تھا۔