ایرانی حکومت بالخصوص صدر محمود احمدی نژاد کے اپنے ہمسائے متحدہ عرب امارات کے ساتھ جزیرہ ابو موسیٰ کے تنازعے کے پرامن حل کے بجائے دھمکیوں کی سیاست پر ایرانی ذرائع ابلاغ میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
صدر محمود احمدی نژداد کے دورہ جزیرہ ابو موسیٰ اور بعد ازاں اسے صوبہ بنانے کے اعلان کو ایرانی قدامت پسندوں نے سراہا ہے، تاہم بدلتی حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے ایرانی دانشور محمودد احمدی نژاد کے اس اقدام کو "عاقبت نااندیشی" قرار دے کر سنگین نتائج کا انتباہ کر رہے ہیں۔
آن لائن فارسی اخبار "میہن" کے ایک کالم نگار "شہاب طیبی" نے اپنے حالیہ کالم میں مفصل تفصیل سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ جزیروں کے تنازعات اور اس کے حل کے بجائے اپنی حکومت کی یک طرفہ اقدامات کے مضمرات کا احاطہ کیا ہے۔ شہاب طیبی لکھتے ہیں: "ایران نے متنازعہ جزیروں کے مسئلے کے لیے دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔
صرف متحدہ عرب امارات ہی نہیں بلکہ پورے عرب خطے اور مغرب کی طرف سے بھی اس کا شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایرانی حکومت کا کوئی سخت اقدام تہران کو سنہ نوے کی دہائی کے عراق کے انجام سے دوچار نہ کر دے۔ یاد رہے کہ کویت پر عراقی حملے پر شدید عالمی اور علاقائی ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بغداد کو سنگین عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عراق اپنا تیل صرف خوراک کے حصول کے لیے فروخت کرنے پر مجبور ہو گیا تھا اور وہ اس قیمتی دولت کو "تیل برائے خورک" کے فارمولے کے تحت ہی فروخت کرنے کا مجاز رہا۔
فاضل ایرانی کالم نگار مزید لکھتے ہیں "کہ متحدہ عرب امارات کوئی گئی گذری ریاست نہیں۔ عرب اور عالمی دنیا میں یو اے ای کی اہمیت کویت سے کم نہیں ہے۔ کویت کو عراق سے جب خطرات لاحق ہوئے تو گرد وپیش کے تمام عرب ممالک اور مغربی دنیا کویت کی اہمیت باور کرانے کی خاطر عراق کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
متحدہ عرب امارات اور ایران کا تنازعہ بھی ایسا ہی ہے۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کو دھمکیاں دیتے ہوئے متنازعہ جزیروں پر زبردستی تسلط جمانے کی کوشش کی تو ایسے میں یو اے ای کے ہمسایہ عرب ملک اس کا ویسے ہی ساتھ دیں گے جیسے عراقی جارحانہ عزائم کے اظہار پر انہوں نے کویت کا ساتھ دیا تھا۔
ماہر سیاسی اور دفاعی امور شہاب طیبی نے صف اول کی ایرانی قیادت کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "صدر محمود احمدی نژاد کا ہنگامی دورہ جزیرہ ابو موسیٰ قوم کے باشعور طبقے کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے چشم بدور رہنما سنہ دو ہزار بارہ میں نہیں بلکہ نصف صدی قبل کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں کہ دنیا کس تیزی سے بدل رہی ہے اور تیزی سے بدلتی دنیا میں ایران کا ہمسایہ ممالک کے ساتھ رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کا کیا راستہ ہونا چاہیے"۔
بہ قول شہاب طیبی ایرانی قیادت کو صدام حسین کی طرح طاقت کے نشے سے باہر نکل آنا چاہیے۔ مصلوب عراقی صدر صدام حسین کے کویت پر حملے کے وقت اس کا بھی یہ دعویٰ تھا کہ وہ کویت سے کہیں زیادہ طاقتور ہے لیکن وہ عرب اور مغربی دنیا میں کویت کی اہمیت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔
صدام حسین اگر آج زندہ ہوتے تو وہ بتاتے کہ کویت پر عراقی حملے کی انہیں کتنی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ انہیں انتہائی ذلت سے عراق سے نکلنا پڑا اور بعد میں ایسی سخت عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا کہ آخر کار عراقی حکومت تیل برائے خوراک جیسے معاہدوں پر مجبور ہو گئی تھی۔