منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 14 جمادى الثانية 1433هـ - 05 مئی 2012م KSA 07:30 - GMT 04:30

چار ساتھیوں سمیت خالد شیخ پر 2900 افراد کے قتل کا الزام

"نائن الیون" کے پانچ مرکزی ملزمان کی فوجی عدالت میں پیشی

ہفتہ 14 جمادى الثانية 1433هـ - 05 مئی 2012م
واشنگٹن ۔ منیٰ الشقاقی

امریکا میں گیارہ ستمبر 2001ء کو ہونے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعات کے الزام میں گرفتار القاعدہ کے پانچ مرکزی ملزمان کو جریزہ گوانتانامو کی ایک فوجی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ حملے کے مرکزی ملزم پاکستانی نژاد خالد شیخ محمد اور ان کے دیگر چار ساتھیوں پر گیارہ سمتبر سن دو ہزار ایک کو امریکا میں 2900 افراد کے قتل سمیت کئی دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ الزامات ثابت ہونے پر ملزمان کو سزائے موت ہو سکتی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق جزیرہ گوانتانامو کی فوجی جیل میں جن پانچ ملزمان کا آج سے ٹرائل شروع ہو رہا ہے ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے خالد شیخ محمد، ان کے بھانجے علی عبدالعزیز علی، سعودی شہری ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی اور یمنی نژاد رمزی بن الشیبہ شامل ہیں۔ ملزمان پر امریکی تاریخ کے سب سے بڑے حملوں کی منصوبہ بندی جیسے الزامات ہیں۔

اس کے علاوہ مذکورہ ملزمان پر شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات، سویلین کے قتل عام، امریکا کے خلاف سازشیں، بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں، پبلک مقامات پر حملوں، جنگ کے اصولوں سے ہٹ کر قتل، اغواء برائے تاوان، دہشت گردی اور اس جیسے کئی اور الزامات بھی شامل ہیں۔

خالد شیخ محمد، جو ملزمان کے گروہ کا اہم ترین رکن ہے، پر دہشت گردی کی سنگین وارداتوں اور جنگی جرائم جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ خالد شیخ محمد کو سنہ 2003ء میں آج سے نو سال قبل پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تین سال تک اسے امریکی خفیہ ادارے "سی آئی اے" کے نامعلوم مقام پر سیف ہاؤس میں رکھا گیا۔ سنہ 2006ء میں اسے امریکا کی بدنام زمانہ جیل گوانتانامو منتقل کر دیا گیا تھا۔

خالد شیخ محمد جزیرہ گوانتانامو کے ان تین اہم قیدیوں میں سے ایک ہے جن پر امریکی حکام نے دوران حراست مبینہ تشدد کا اعتراف کیا تھا۔ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خالد شیخ محمد کو گوانتامو بے کے حراستی مرکز میں 183ء مرتبہ وارٹر بورڈنگ کی سزا دی گئی۔ کسی ملزم سے اعتراف جرم کرانے کے لیے تشدد کا یہ سخت ترین حربہ سمجھا جاتا ہے۔

امریکا کے ایک دفاعی تجزیہ نگار اور مصنف گوش مائر نے اپنی نئی کتاب "خالد شیخ محمد کی تلاش" میں القاعدہ کی قیادت بالخصوص خالد شیخ کے تنظیم میں کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "امریکا میں نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی میں القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن سے کہیں زیادہ خالد شیخ کا کردار تھا۔ اگر خالد شیخ القاعدہ میں نہ ہوتا تو نائن الیون کا وقوعہ نہ ہوتا۔"

"لوگ اکثر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں بھی یہ خالد شیخ محمد ہی تھے جنہوں نے امریکا پر"بوجنکا" نامی حملوں کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ اس منصوبے میں بھی ہوائی جہازوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تکنیک استعمال کی گئی تھی۔ البتہ یہ حملہ پیشگی کارروائی پر ناکام بنا دیا گیا تھا۔ خالد شیخ محمد نے یہ منصوبہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے سامنے پیش کیا تو اُنہوں نے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا تھا لیکن خالد نے شیخ اسامہ کو قائل کر لیا اور اغواء کاروں کو مکمل تربیت دی تھی"۔

موجودہ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیوبا میں قائم کیے گئے"گوانتانامو" حراستی مرکز کو بند کرنے اور اس میں محروس تمام افراد کو امریکا میں منتقل کر کے سول عدالتوں میں ان پر مقدمات چلانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انتخابات میں کامیابی اور حکومت سازی کے بعد اندرونی دباؤ کے باعث صدر اوباما اپنے اعلان پر عمل نہیں کر سکے ہیں۔

امریکی وزیر قانون وانصاف "ایرک ہولڈر" کی خواہش تھی کہ وہ نائن الیون کے ملزمان کا ٹرائل حملوں سے متاثر ہونے والے سب سے بڑے شہر نیویارک میں کرائیں لیکن وہ اس کی سیکیورٹی پر اٹھنے والے اخراجات کے متحمل نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کانگریس کے سخت دباؤ کا بھی شکار تھے جو کسی بھی صورت میں نائن الیون کے ملزمان کو امریکا میں منتقل کرنے کی مخالف تھی۔

خالد شیخ محمد اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں بھی فوجی ٹرایبونل میں پیش کیا تھا، جہاں خالد شیخ سمیت تمام ملزمان نے نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا تھا۔

سنہ 2008ء میں فوجی عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے خالد شیخ محمد نے سزائے موت کا سامنا کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی اور نائن الیون کے حملوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے "شہادت" کی آرزو کی تھی۔ آج ہفتے کے روز وہ نئی فوجی عدالت میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم ملزمان کی وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نئی فرد جرم کو تسلیم نہیں کریں گے اور وہ سزاء کےخلاف اپیل کریں گے۔