اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے سلفی مسلک کے ایک سرکردہ اردنی رہ نما الشیخ عبدالقادر شحادہ الطحاوی نے اردن سے سلفی جنجگوؤں کی شام میں منتقلی اور فری آرمی کے ساتھ مل کر لڑنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
بہ قول علامہ شحادہ میں حق کی سربلندی کے لیے اسلحہ اٹھانے اور جہاد کا اب بھی قائل ہوں تاہم ذرائع ابلاغ کی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ اردن سے سلفی مسلک کے لوگ شام میں جا کر لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ حکومت کی کڑی نگرانی میں زندگی گذارنے والے شیخ طحاوی نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کے خصوصی پروگرام "صناعۃ الموت" میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔
ایک سوال کے جواب میں اردن کے سلفی لیڈر نے شامی صدر بشارالاسد کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بشار الاسد نے اپنی رعایا پر مظالم ڈھاتے ہوئے تمام محرمات کو بری طرح پامال کر دیا ہے۔ کسی نہ کسی کو اسے اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے ضرور اٹھنا چاہیے۔
اردن میں سخت اسلامی تعلیمات کے نفاذ کے لیے اسلحہ اٹھانے سے متعلق سوال پر شیخ طحاوی نے اپنے پہلے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کہیں بھی حالات اجازت دیں اور وسائل میسر ہوں تو مسلح جہاد جاری رہنا چاہیے۔ میرا پہلے بھی یہی موقف تھا اور آج ہھی وہی ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2009ء میں بھی شیخ طحاوی کے ایسے ہی خیالات کو العربیہ کے فلیگ شپ پروگرام "صناعۃ الموت"میں دکھایا گیا تھا۔ اس وقت وہ ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔ تقریب میں ان کے پیروکار سخت گیر مسلح افراد بھی موجود تھےؕ اپنے حامیوں کے جلو میں علامہ طحاوی نے اندرون ملک تکفیر اور مسلح جہاد کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ جس کے بعد انہیں ڈیڑھ سال کے لیے جیل کی ہوا کھانا پڑی تھی۔ اب بھی "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر اور باہر جہاد سے متعلق انکا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔