گیارہ ستمبر سنہ 2001ء کو امریکا میں ہونے والے ہولناک حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ پاکستانی نژاد خالد شیخ محمد اور ان کے چار دیگر ساتھی ملزمان ہفتے کے روز کیوبا میں قائم "گوانتانامو" کی امریکی فوجی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے فوجی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے تیار کردہ فرد جرم کے پیش کیے جانے کے بعد ملزمان اور ان کے وکلاء کو کچھ کہنے کا موقع دیا۔ اس پر ملزمان گوانتانامو کے قید خانے میں خود پر کئے جانے والے بیہیمانہ تشدد پر چیخ پڑے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق یمنی نژاد ملزم رمزی بن الشیبہ نے فوجی ٹرایبونل میں چیخ چیخ کر کہا کہ "قذافی کا دور تو گذر گیا لیکن گوانتانامو میں اب بھی کئی قذافی موجود ہیں۔ ہمیں جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ جج صاحب! ہو سکتا کہ آج میری اور آپ کی آخری ملاقات ہو اور آپ مجھے دوبارہ یہاں کھڑا نہ پائیں۔ مجھے قتل کر دیا جائے اور پھر آپ کے سامنے یہ لوگ یہ بیان دیں کہ رمزی نے تو خود کشی کرلی ہے"۔
دو دیگر ملزمان کے وکلاء نے بھی عدالت سے الگ الگ بات کرنے کی اجازت مانگی، جس پر انہیں اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے اپنے مؤکلین پر گوانتانامو میں دوران حراست ہونے والے شرمناک تشدد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان پر اب بھی تشدد کیا جا رہا ہے۔ اس پر جج کرنل جیمز بول نے ملزمان کے وکلاء سے کہا کہ فی الحال اس موضوع پر بات کرنا مناسب نہیں۔ انہیں دوسری مرتبہ اس پر بات کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ لیکن ابھی نہیں"۔
سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ملزم ولید بن عطاش کی خاتون وکیل سیاہ حجاب اوڑھ کر عدالت میں پیش ہوئی۔ اس نے اپنی دیگر خواتین وکیل ساتھیوں سے بھی کہا کہ وہ بھی مہذب لباس کے ساتھ عدالت میں پیش ہوا کریں۔
خالد شیخ محمد کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے خوش الحانی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی۔ جہاد کے موضوع پرایک طویل لیکچر دینے کی کوشش کی اور شہادت کی تمنا کا اظہار کرتے ہوئے عدالت میں پیشی کے خاکے تیار کرنے والے فنکاروں سے کہا کہ وہ خاکوں میں اس کی ناک کو چھوٹی رکھا کریں۔
ملزمان کی عدالت میں پیش کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور نائن الیون کے حملوں میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ متاثرین نائن الیون نے پاکستانی نژاد خالد شیخ محمد کو فوری پھانسی دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کے پاس خالد شیخ کو پھانسی دینے کے لیے تمام ثبوت موجود ہیں۔ عدالت ان سے ثبوت مانگے۔
جزیرہ گوانتانامو کی فوجی جیل میں جن پانچ ملزمان ٹرائل ہو ا، ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے خالد شیخ محمد، ان کے بھانجے علی عبدالعزیز علی، سعودی عرب کے ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی اور یمنی نژاد رمزی بن الشیبہ شامل ہیں۔ ان پر امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے حملوں کی منصوبہ بندی جیسے الزامات ہیں۔
اس کے علاوہ مذکورہ ملزمان پر شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات، سویلین کے قتل عام، امریکا کےخلاف سازشیں، بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں، پبلک مقامات پر حملوں، جنگی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر قتل، اغواء برائے تاوان، دہشت گردی اور اس جیسے کئی اور الزامات بھی شامل ہیں۔
خالد شیخ محمد، ملزمان کے اس گروہ کا اہم ترین ملزم ہے، کو دہشت گردی کی سنگین وارداتوں اور جنگی جرائم جیسے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ خالد شیخ محمد کو سنہ 2003ء میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اگلے تین سال تک اسے امریکی خفیہ ادارے"سی آئی اے" کے "سیف ہاؤس" میں رکھا گیا۔ سنہ 2006ء میں اسے امریکا کی بدنام زمانہ جیل گوانتانامو میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
خالد شیخ محمد جزیرہ گوانتانامو کے ان تین اہم قیدیوں میںسے ایک ہے جس پر امریکی حکام نے دوران حراست مبینہ تشدد کا اعتراف کیا تھا۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے"سی آئی اے" کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خالد شیخ محمد کو گوانتانامو کے حراستی مرکز میں 183ء مرتبہ وارٹر بورڈنگ کی سزا دی گئی۔ کسی ملزم سے اعتراف جرم کرانے کے لیے تشدد کا یہ سخت ترین حربہ سمجھا جاتا ہے۔