منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: اتوار 15 جمادى الثانية 1433هـ - 06 مئی 2012م KSA 23:00 - GMT 20:00

فوج کی مظاہرین کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں حملہ

شام: جنگجو گروپ نے حماہ میں خودکش حملے کی ذمے داری قبول کر لی

اتوار 15 جمادى الثانية 1433هـ - 06 مئی 2012م
دمشق ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

شام سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے وسطی شہر حماہ کے نزدیک گذشتہ ماہ خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

امریکا میں قائم سائٹ مانیٹرنگ گروپ کی اطلاع کے مطابق النصرۃ محاذ نے خودکش بممار کا نام ابو بکر الحماوی بتایا ہے اور کہا ہے اس نے بیس اپریل کو اپنی بارود سے بھری گاڑی ایک ریستوران کے باہر دھماکے سے اڑا دی تھی۔ اس ریستوران میں اس وقت فوجی کھانا کھا رہے تھے اور ان فوجیوں نے مبینہ طور پر ایک قصبے لطمناہ میں مظاہرین کا قتل عام کیا تھا۔

خودکش حملے کے وقت وہاں ساڑھے تین سو افراد موجود تھے لیکن اس گروپ نے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔ جہادی ویب سائٹس اور ان پر پوسٹ کیے گئے مواد کی نگرانی والے سائٹ گروپ کے مطابق النصرۃ محاذ نے چار مئی کو اس دعوے پر مبنی ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی تھی۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ چودہ ماہ سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران چند ایک ہی خودکش بم دھماکے ہوئے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں سرکاری سکیورٹی فورسز سے بر سر پیکار باغی جنگجوؤں نے مسلح مزاحمتی سرگرمیوں کے دوران گھریلو ساختہ بم بھی استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں اور ہفتے کے روز دارالحکومت دمشق میں ایک شاہراہ پر دو اور دوسرے بڑے شہر حلب میں ایک بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق حلب میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہو گئے تھے۔ باغیوں پر مشتمل آزاد شامی فوج کے ایک رکن نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق حلب کے علاقے تل الضراضیر کے علاقے میں بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن حملے کی ذمے داری قبول کرنے والے باغی جنگجو نے ہلاکتوں کی تعداد نو بتائی ہے۔

شام میں یہ تینوں بم دھماکے جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے پچاس مبصرین کی موجودگی کے باوجود ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں بارہ اپریل سے جاری جنگ بندی کی نگرانی کے لیے تین سو عالمی مبصرین بھیجنے کی منظوری دی تھی لیکن اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے اب تک صرف ایک سو پچاس مبصرین کو شام میں تعینات کرنے کی پیش کش کی ہے۔

یاد رہے کہ شام میں گذشتہ سال مارچ کے وسط سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران تشدد کے واقعات میں گیارہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شامی حکومت کے دعوے کے مطابق ان میں دو ہزار چھے سو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جو باغیوں کے ساتھ جھڑپوں یا ان کے حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔