کویت کے موجودہ اور سابق وزیراعظم سے رقوم کی غیر قانونی منتقلی کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی اور عدالتی کمیٹیوں نے پوچھ گچھ کی ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ فیصل المسلم نے اتوار کو میڈیا کو بتایا ہے کہ ہفتہ کی رات وزیر اعظم شیخ جابر مبارک الصباح سے ان کے پیش رو کی جانب سے رقوم کی غیر قانونی بیرون ملک منتقلی کے کیس میں پوچھ گچھ کی گئی ہے اور انھوں نے سابق وزیراعظم شیخ ناصر محمد الاحمد الصباح کے خلاف تحقیقات کے ضمن میں کمیٹی سے مکمل تعاون کیا ہے۔
واضح رہے کہ کویت کے موجودہ اور سابق وزیر اعظم حکمران الصباح خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو گذشتہ ڈھائی سو سال سے اس خلیجی ریاست میں برسر اقتدار چلا آرہا ہے۔
کویتی پارلیمان نے سابق وزیر اعظم شیخ ناصر کے خلاف ملک سے باہر غیرقانونی طور پراپنے بنک کھاتے میں رقوم منتقل کرنے اور سابق ارکان پارلیمان میں رقوم کی تقسیم کے اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے کمیٹی مقرر کی تھی۔اپوزیشن کے ارکان نے دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری عہدے داروں نے غیر قانونی طریقے سے بھاری رقوم بیرون ملک منتقل کی تھیں اور گذشتہ سال نومبر میں کویتی وزیرخارجہ اس اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔
حزب اختلاف نے سابق وزیر اعظم شیخ ناصر پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ ان کی حکومت نے پچاس رکنی سابق پارلیمان کے سولہ ارکان میں سیاسی رشوت کے طور پر پینتیس کروڑ ڈالرز کی رقم ان کے بنک کھاتوں میں منتقل کی تھی۔اب پارلیمانی پینل بدعنوانی کے اس کیس کی تحقیقات کررہا ہے۔اس کے علاوہ کویت کے اٹارنی جنرل بھی ستمبر2011ء سے بدعنوانی کے اس کیس کی تحقیقات کررہے ہیں۔
حزب اختلاف کے ایک رکن مسلم البراک نے گذشتہ سال ستمبر میں دعویٰ کیا تھا کہ شیخ ناصر نے اپنے چھے سالہ دورحکومت میں ساڑھے ستائیس کروڑ ڈالرز کی رقم بیرون ملک اپنے بنک کھاتوں میں منتقل کی تھی۔پارلیمانی پینل اس کیس میں پہلے ہی بعض وزراء اور سنئیر حکام سے پوچھ گچھ کر چکا ہے۔
کویتی اخبار القبس میں اتوار کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق ایک عدالتی ٹرائبیونل الگ سے بھی اس کی تحقیقات کررہا ہے اوراس نے شیخ ناصر سے پوچھ گچھ کی ہے لیکن انھوں نے کسی غلط کاری سے انکار کیا ہے۔
اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ''سابق وزیراعظم نے ٹرائبیونل کے روبرو اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ تمام رقوم کویت کے مفاد میں منتقل کی گئی تھیں اور اس میں کوئی ذاتی مفاد کار فرما نہیں تھا''۔
شیخ ناصر کو 2006ء میں وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ تین مرتبہ خود کو عدم اعتماد کی تحریکوں میں بچانے میں کامیاب رہے تھے لیکن گذشتہ سال نومبر میں وہ اپنے خلاف بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد اپنی حکومت کو بچانے میں ناکام رہے تھے اور امیر کویت نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا جس کے بعد وہ مستعفی ہو گئے تھے۔
امیر کویت نے ان کا استعفیٰ مسترد کرنے کے بجائے قبول کرلیا تھا اور ان کی جگہ وزیر دفاع شیخ جابر مبارک الصباح کو ملک کا نیا وزیر اعظم نامزد کرکے انھیں کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی تھی۔شیخ ناصر کے مستعفی ہونے کے بعد پارلیمان کو بھی توڑ دیا گیا تھا اور قبل از وقت انتخابات کرائے گئے تھے۔ ان میں حزب اختلاف نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔