امریکا میں نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اور دعوے دار خالد شیخ محمد اور اس سازش میں شریک ان کے چار ساتھیوں کے خلاف باضابطہ طور پر فرد جرم عاید کر دی گئی ہے جس کے بعد اب ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہو گی۔
نائن الیون کے مشتبہ ملزموں خالد شیخ محمد اور ان کے چار ساتھیوں مصطفى الحوساوی، عمار البلوچی، رمزی بن الشیبہ اور ولید بن عطاش کے خلاف کیوبا میں واقع جزیرے گوانتانامو بے پر قائم امریکی بحری اڈے میں ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس فوجی عدالت میں ہفتے کے روز ان پانچوں ملزمان پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں باضابطہ طور پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ اس کے بعد فوجی ٹرائبیونل کے جج نے عدالتی کارروائی بارہ جون تک ملتوی کر دی ہے۔
ان پانچوں ملزمان پر عاید کی گئی چارج شیٹ کے مطابق ''انھوں نے 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور شانکس ویلی میں ہوئے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنایا تھا جس کے نتیجے میں دو ہزار نو سو چھہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے''۔ عدالت میں دو مدعا علیہان کے مطالبہ پر ان کے خلاف فرد جرم کا نصف حصہ پڑھ کر سنایا گیا اور اس میں بھی ڈھائی گھنٹے صرف ہوئے تھے۔
سینتالیس سالہ خالد شیخ محمد، ان کے پاکستانی بھانجے علی عبدالعزیز علی المعروف عمار البلوچی اور ان کے تین ساتھیوں پر دہشت گردی، طیاروں کو ہائی جیک کرنے، سازش، جنگی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل اور دوسرے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ اب اگر فوجی عدالت انھیں قصور وار قرار دے دیتی تو انھیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گوانتانامو بے میں قائم فوجی ٹرائبیونل میں پانچوں ملزمان کے خلاف تیرہ گھنٹے تک سماعت جاری رہی تھی اور اس دوران خالد شیخ محمد اور ان کے ساتھیوں نے مسلسل نو گھنٹے تک خاموشی اختیار کیے رکھے۔ پھر اچانک ہی یمنی نژاد ملزم رمزی بن الشیبہ نے چلانا شروع کر دیا اور انھوں نے ٹرائبیونل کے جج امریکی فوج کے کرنل جیمز پوہل سے مخاطب ہو کر کہا کہ ''آپ ہمیں قتل کرنے جا رہے ہیں''۔ انھوں نے کہا کہ ''کرنل قذافی کی حکومت تو حکومت ختم ہو چکی ہےلیکن کیمپ میں قذافی موجود ہیں جو ہمیں قتل کرنا چاہتے ہیں اور پھر کہیں گے کہ ہم نے خودکشی کر لی ہے''۔
عدالت میں سماعت کے دوران پانچوں ملزمان نے سفید رنگ کے سوٹ زیب تن کر رکھے تھے۔ وہ مسلسل قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے یا انھوں نے زمین پر اپنی نظریں گاڑے رکھیں اور اس دوران نماز بھی ادا کی۔ وہ جج کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے سے مسلسل انکار کرتے رہے تھے۔
فوجی عدالت میں پیشی کے وقت صرف ولید بن عطاش کو ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا لیکن جج پوہل نے ان کی جانب سے مناسب رویے کی یقین دہانی کے بعد ان کے ہاتھ کھولنے کا حکم دے دیا۔ جج جیمز پوہل کا کہنا تھا کہ فرد جرم عاید کیے جانے کے بعد اب مقدمے کی سماعت کے آغاز میں ایک سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی حکام نے خالد شیخ محمد اور ان کے چار ساتھیوں ولید بن عطاش، رمزی بن الشیبہ، مصطفیٰ احمد الحوساوی اور علی عبدالعزیز علی پر گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا تھا۔ خالد شیخ محمد نے امریکی حکام کی تفتیش کے دوران مبینہ طور اعتراف کیا تھا کہ وہ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے اور انھوں نے ہی 1996ء میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کو اس طرح مسافر طیاروں کے استعمال سے امریکا پر حملوں کا تصور پیش کیا تھا۔ انھوں نے ہی حملوں کے لیے ہائی جیکروں کو افغانستان میں تربیت دی تھی اور اس تمام عمل کی نگرانی کی تھی۔
امریکا کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتانامو بے میں قید ان پانچوں مشتبہ ملزموں نے مارچ 2009ء میں امریکی فوجی فوجی ٹرائبیونل میں ایک دستاویز جمع کرائی تھی جس میں انھوں نے نائن الیون حملوں پر فخر کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے ان حملوں میں قریباً تین ہزار افراد کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
اس دستاویز میں''ان پانچوں زیر حراست ملزمان کو نائن الیون حملوں کی شوریٰ کونسل قرار دیا گیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ کارروائی اللہ کی رضا کے لیے کی تھی''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ہمارے لیے یہ حملے کوئی الزام نہیں، بلکہ ایک اعزاز کی بات ہے کیونکہ انھیں ہم نے بڑے فخر اور اعزاز کےساتھ انجام دیا تھا''۔
گوانتانامو بے میں قائم ٹرائبیونل کے فوجی جج نے الگ سے بھی ایک دستاویز جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ملزمان کی دستاویز کا عنوان :''حکومت کے نو الزمات پر اسلامی ردعمل''تھا۔ خالد شیخ محمد سمیت پانچوں افراد نے تب فوجی عدالت سے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی پیروی خود کرنا چاہتے ہیں اور کسی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ انھوں نے امریکی نظام انصاف اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا لیکن اب انھیں سول اور فوجی وکلائے صفائی کی خدمات مہیا کی گئی ہیں اور فوجی عدالت میں سزائے موت کے کیسوں کی پیروی کرنے والے سول وکلاء ان کی پیروی کر رہے ہیں۔