افغانستان کے جنوبی علاقے میں افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک مسلح شخص نے فائرنگ کرکے نیٹو کے ایک فوجی کو ہلاک کردیا ہے۔
نیٹو کے تحت سکیورٹی اسسٹنس فورس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتوارکو فائرنگ کا یہ واقعہ جنوبی افغانستان میں پیش آیا ہے جہاں مسلح حملہ آور نے نیٹو فوجیوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک فوجی مارا گیا۔ جوابی فائرنگ سے حملہ آور بھی موقع پر ہلاک ہو گیا ہے۔
ایساف کے ترجمان نے اپنے بیان میں واقعے کی مزید تفصیل نہیں بتائی اور نہ مرنے والے فوجی کی قومیت ظاہر کی گئی ہے۔ایساف نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے مشرقی علاقے میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک اتحادی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔تاہم اس فوجی کی بھی قومیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
افغان فوجی کے ہاتھوں نیٹو فوجی کی ہلاکت کے بعد اس سال اب تک اس طرح کے حملوں میں ہلاک شدہ غیرملکی فوجیوں کی تعداد انیس ہوگئی ہے۔جنوری سے اب تک افغان فورسز کی وردی میں ملبوس حملہ آوروں یا فوجیوں نے غیرملکی فوجیوں پر تیرہ حملے کیے ہیں۔طالبان مزاحمت کاروں نے ان میں سے بعض حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔
ایک ہفتہ قبل جنوبی صوبہ قندھار میں افغان اسپیشل فورسز کے ایک فوجی نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک امریکی ،دوافغان فوجی اور ایک مترجم ہلاک ہوگیا تھا۔
واضح رہے کہ جنگ زدہ ملک میں گذشتہ سال سے افغان قومی فوج کی وردی میں ملبوس حملہ آوروں کے قابض فوجیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس طرح کی کارروائیوں کو ''سبز وردی والوں کے نیلی وردی والوں'' پر حملوں کا نام دیا جارہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق سن دوہزار سات کے بعد افغان فوجیوں یا ان کی وردی میں ملبوس مسلح افراد نے نیٹو کے فوجیوں پر قریباً پچاس حملے کیے ہیں اور ان میں سے پچھہتر فی صد گذشتہ دوسال کے دوران کیے گئے ہیں۔افغان فوج کی وردی مارکیٹ میں بآسانی دستیاب ہے اور افغان مزاحمت کار یہ وردی پہن کر غیرملکی فوجیوں پر حملوں کے لیے ان کے اڈوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ افغان اور نیٹو فوج حفاظتی تدابیر کے باوجود ایسے حملوں کی روک تھام میں ناکام ہیں۔