مصر میں سعودی عرب کے سفیر اور عرب لیگ میں مستقل مندوب احمد عبدالعزیز القطان نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور مصر کے سابق معزول صدر حسنی مبارک کے ساتھ تعلقات اسی وقت ختم ہو گئے تھے جب انہوں نے گیارہ فروری 2011ء کو صدارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ سفارتی کشدگی کے باوجود ان کے ملک نے نہ تو مصر میں اپنے سرمایہ کاری کے منصوبے بند کرنے کی دھمکی دی اور نہ ہی اپنے ہاں کام کرنے والی مصری لیبرکو وہاں سے نکالنے کے بارے میں غور کیا۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ریاض حکومت کی طرف سے مصر میں 80 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کی گئی تھی جبکہ اس سال ایک ارب بیس کروڑ کی سرمایہ کی گئی ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق سعودی عرب کے سفیرنے ان خیالات کا اظہار ڈیڑھ ہفتہ قبل سفارتی تعطل کے بعد دوبارہ قاہرہ آمد پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حسنی مبارک کو سزا دینا مصر کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان کے ملک نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اگر حسنی مباک کا ٹرائل ہوا تو وہ اپنے سرمایہ کاروں کو واپس بلا لیں گے اور مصری لیبر کو اپنے ہاں سے نکال دیں گے۔ سعودی عرب اور حسنی مبارک کے درمیان دوستی اسی وقت ختم ہو گئی تھی جب انہوں نے عوامی دباؤ کے تحت صدارت کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
کسی صدارتی امیدوار کی حمایت سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں احمد القطان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب تمام مصری صدارتی امیدوارں کے ساتھ ہی فاصلے پر کھڑا ہے۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ مصر میں جو شخص بھی صدر منتخب ہو گا وہ قاہرہ ۔ ریاض تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پوری کوشش کرے گا۔ سعودی عرب بھی مصر کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے کام کرتا رہے گا۔
اتوار کے روز سفارتی سرگرمیاں دوربارہ شروع کرنے اور سفارتی تعطل کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ "دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے اور بہ بحران دوبارہ پیدا نہیں ہو گا"۔ انہوں نے مصری میڈیا کے بارے میں شکوہ کیا اور کہا کہ مصر کے ذرائع ابلاغ نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنازع کو جو رنگ دیا تھا حقیقت اس سے بالکل برعکس تھی۔
سعودی عرب میں مصری قیدیوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ "ہمارے ملک میں مصر کے کئی افراد سنگین نوعیت کی وارداتوں میں عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں۔ ان میں بعض ایسے ہیں جن کا دہشت گردی یا القاعدہ سے تعلق ہے۔ کچھ اسلحہ اور منشیات کی اسگلنگ میں ملوث ہیں۔ ہماری عدالتوں نے انہیں قصور وار ٹھہرایا ہے۔ قاہرہ حکومت ہماری عدلیہ کی شفافیت کو ایسے ہی تسلیم کرتی ہے جسیے ہم مصری عدالتوں کے فیصلوں احترام کرتے ہیں۔ ہم عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کریں گے"۔
دونوں ملکوں کےدرمیان سفارتی ڈیڈ لاک کے پس پردہ غیر ملکی سازشی ہاتھ کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے اشارے ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے خارجی عناصر ضرور اپنا ہاتھ دکھا کر قاہرہ اور ریاض کے درمیان تعلقات بگاڑنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے ان بیرونی ہاتھوں کی تمام سازشیں ناکام بنا دی ہیں۔
مصر میں اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی سازش سے متعلق سوال پر سعودی سفیر نے ایسی کسی سازش کا علم ہونے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ قاہرہ حکام نے دو ایرانیوں کو حراست میں لیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ اور اہم شخصیات کے بارے میں تفصیلات ملی ہیں۔ تاہم میرا کسی غیر ملکی گروہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ میرے خیال میں تو کچھ ہوا نہیں"۔
خیال رہے کہ مصر اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تنازعہ کوئی دو ہفتے قبل اس وقت پیدا ہو گیا تھا جب سعودی عرب کی ایک عدالت نے زیر حراست مصری وکیل الجیزاوی کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔ اس پر مصری انقلابیوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قاہرہ میں سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پرحملے کی کوشش کی۔
سعودی عرب نے ناراض ہو کر اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔ سفارتی تعطل کے بعد دونوں ملکوں کی تاجر برادری بھی متحرک ہو گئی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی تاہم سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مصر میں تعینات اپنے سفیر احمد القطان کو دوبارہ سفارتی خدمات کی انجام دہی کے لیے قاہرہ بھیج دیا ہے۔