منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 16 جمادى الثانية 1433هـ - 07 مئی 2012م KSA 12:11 - GMT 09:11

شیخ الکورانی مصری شیعوں کے گھروں میں تقریبات منعقد کرتے رہے

مصر: اہل تشیع کے حسینیہ فرقے کو منظم کرنے پر علماء سخت برہم

پیر 16 جمادى الثانية 1433هـ - 07 مئی 2012م
دبئی ۔ نجاح محمد علی

مصر میں لبنان کے ایک سرکردہ شیعہ رہ نما کی سرگرمیوں اور حسینیہ شیعہ فرقے کی جماعت کے قیام پر علماء کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے علماء، اسلامک ریسرچ اکیڈمی سے وابستہ مذہبی شخصیات اور وزارت اوقاف کے علماء نے شیخ علی الکورانی کے مصر کے دوروں اور اہل تشیع کے گھروں میں حسینیہ فرقے کے پروگرامات منعقد کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔

ان علماء کا کہنا ہے کہ شیعہ لیڈر علی الکورانی قاہرۃ اور دوسرے شہروں میں نہایت متنازعہ طریقے سے اہل تشیع کے حسینیہ گروپ کو منظم کر رہے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے سے مصرمیں اہل تشیع کے گھروں میں منعقد ہونے والے پروگرامات میں شرکت کرکے انہوں نے امام مہدی منتظر کے ظہور کی بشارت، ان کےنسب اور ذریت سمیت کئی دیگر متنازعہ نوعیت کے مسائل پر تقاریر کی بھی کی ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق لبنانی نژاد شیعہ رہ نما ان شیخ علی الکورانی ایران کے مذہبی مرکز"قُم" میں مقیم ہیں اور وہ ایران کی تحریک دعوت اسلامی کے ایک سرکردہ رہ نما رہ چکے ہیں تاہم کچھ عرصہ قبل انہوں نے اس سے علاحدگی کا اعلان کردیا تھا۔ اب وہ صرف اپنے ایک خاص فلسفے کے مطابق امام مہدی منتظر کے ظہور کے بارے میں ایک آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔ ایران کے شہر "قم "اور عراق کے "نجف" سمیت کئی دوسرے عرب ملکوں میں بھی ان کے ہزاروں ہم خیال اہل تشیع موجود ہیں، جن میں کئی سرکردہ شیعہ مذہبی اور سیاسی رہ نما بھی شامل ہیں۔

جامعہ الازھر کی جانب سے شیخ الکورانی کے مصر میں میں حسینیہ شیعہ فرقے کو منظم کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔ شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد کا کہنا ہے کہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کی طرف سے پہلے بھی شیخ علی الکورانی کی نا مناسب سرگرمیوں کی مذمت میں ایک بیان جاری کیا جا چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ باز نہیں آ رہے ہیں۔

انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ شیخ الکورانی مصری شیعوں کو منظم کرنے کے لیے ان کے گھروں میں اجلاس منعقد کرتے پھرتےہیں۔ وہ اس کی بھرپورمذمت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد نے کہا کہ ہم نے اہل سنت و الجماعت کے علماء کو اہل تشیع میں اپنے مسلک کی دعوت پھیلانے سے روک دیا تھا، اہل تشیع کو بھی ایسی سرگرمیوں سے احتراض کرنا چاہیے۔ اس طرح کی دعوتی تحریکوں سے فتنہ اور فساد جنم لیتے ہیں جس کا نتیجہ خون خرابے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔

جامعہ الازھرکے عہدیدار نے کہا کہ قرآن ہمیں تفرقہ بازی کی نہیں بلکہ "واعتصموا بحبل اللہ" یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ جامعہ الازھر مصرمیں کسی ایسی فرقے کی کھلےعام دعوت کی اجازت نہیں دے گی جو ہماری قوم میں فساد کا موجب بنے۔


شیخ الکورانی کا دورہ متفق علیہ تھا

ادھر مصر میں ایک سرکردہ شیعہ رہ نما اورھاشمیہ الشاذلیہ گروپ کے سیکرٹری جنرل طاھر الھاشمی نے جامعہ الازھر کی جانب سے شیخ علی الکورانی کی مصر میں آمد ورفت اوران کے لیکچرز پر اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔ شیخ طاہر الھاشمی کا کہنا ہے کہ علامہ علی الکورانی نے مصرکے جن مقامات کے دورے کیے اور وہاں پرلیکچرز دیے ہیں وہ وہاں کے لوگوں اور علماء کی دعوت پر دیے ہیں۔

ان کے تمام دورے متفق علیہ تھے جن پرکسی شخص کو اعتراض نہیں تھا۔ طاھر ہاشمی نے اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے سربراہ شیخ محمود الشریف کے اس بیان کو مسترد کردیا کہ شیخ علی الکورانی مصر میں فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسینیہ شیعہ فرقہ مسلمانوں کو آپس میں ٹکرانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " کے کلمے تلے جمع کر رہے ہیں"۔

سرگرمیاں مشکوک ہیں: وزارت اوقاف

مصری وزارت اوقاف نے بھی شیخ علی الکورانی کی مصر میں آمد ورفت اور ان کی مذہبی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر سالم الخلیل کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی دوسرے ملک کے اہل تشیع کے سرکردہ عالم دین کا مصر کا باربار دورہ کرنا اور یہاں کے لوگوں کو منظم کرنا اپنے اندر کئی قسم کے شکوک وشبہات کو سموئے ہوئے ہے۔

اگر شیخ علی الکورانی سرکاری دعوت پر یہاں آتے تو ہمیں اس پرکوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن وہ اپنے طورپر کئی مرتبہ مصرکا کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کے دورے کا ایجنڈا اور مقاصد کیا ہیں۔ چنانچہ اسی بنیاد پر وہ شیخ علی الکورانی کی سرگرمیوں کو مشکوک قرار دیتے ہیں۔ اس سے ملک میں پہلے سے موجود افراتفری کو مزید ہوا ملے گی۔

ڈاکٹر الخلیل کاکہنا تھا کہ ہمیں ڈر یہ ہے کہ اس وقت مصرکے اندرونی حالات نہایت خراب ہیں اور کوئی بیرونی قوت ان خراب حالات سے فائدہ اٹھا کر کوئی نیا ہنگامہ برپا نہ کر دے۔ اہل تشیع کے کئی فرقے محض فتنہ اور فساد پیدا کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔ وہ اہل سنت کے حلقوں میں شیعوں کی اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے جو ملک و قوم اور پوری ملت اسلامیہ کے لیے تباہی کا موجب بن جائیں۔