شام میں کثیر جماعتی پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے اور سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
شام کی حزب اختلاف کی جماعتوں اور باغی گروپوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ یورپ میں شامی جنرل انقلاب کمیشن کے ترجمان بسام جعارا نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابات کو ''نان سینس'' قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔
پارلیمانی انتخابات سے قبل نو جماعتوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی تھی اور ان میں سے سات نےاپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ شامی صدر بشار الاسد کی جماعت بعث پارٹی کی قیادت میں قومی ترقی پسند محاذ کے نام سے اتحاد تشکیل دیا گیا ہے اور اسے ماضی کے تجربات کے پیش نظر ان انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہونے کا امکان ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان کی دو سو پچاس نشستوں کے لیے سات ہزار ایک سو پچانوے امیدواروں نے اپنے نام رجسٹرڈ کرائے تھے جبکہ ایک کروڑ چالیس لاکھ شامی ووٹ دینے کے اہل ہیں۔
یہ انتخابات ملک کے نئے آئین کی منظوری کے تین ماہ کے بعد کرائے جا رہے ہیں۔ اس آئین میں حکمران بعث پارٹی کے مقابلے کے لیے نئی سیاسی جماعتوں کے قیام کی اجازت دی گئی ہے۔
تاہم حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان سے شام میں جاری واقعات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ شام میں پولنگ کے ساتھ ساتھ سرکاری فوج کی تشدد آمیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسدی فوج کی فائرنگ سے مزید گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ العربیہ کی اطلاع کے مطابق بدھ کو شام میں اٹھارہ افراد مارے گئے تھے۔