منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: پیر 16 جمادى الثانية 1433هـ - 07 مئی 2012م KSA 21:16 - GMT 18:16

حلف برداری سے قبل پیوتن مخالفین کا مظاہرہ

روس: ولادی میر پیوتن تیسری مرتبہ منصب صدارت پر فائز

پیر 16 جمادى الثانية 1433هـ - 07 مئی 2012م
ماسکو ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں


روس کے منتخب صدر ولادی میر پیوتن نے تیسری مرتبہ پہلے سے مختلف حالات میں اپنا منصب سنبھال لیا ہے۔

ولادی میر پیوتن نے کریملن کے سینٹ اینڈریو ہال میں منعقدہ تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔اس موقع پر دوہزار کے لگ بھگ مہمان موجود تھے۔

روسی صدر کی حلف برداری کے موقع پر قریباً چالیس افراد نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انھیں منتشر کردیا اور ان میں سے بائیس کو گرفتار کرلیا گیا۔اتوار کو ماسکو میں نئے منتخب صدر پیوتن کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا تھا۔پولیس نے تین اپوزیش لیڈروں سمیت چار سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

ولادی میر پیوتن طبعاً آمرانہ طرز حکومت کے حامی ہیں اور ماضی میں انھوں نے زیادہ تر اختیارات اپنی ذات میں مرکز کررکھے تھے لیکن اب دنیا کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں روسی شہری بھی زیادہ آزادیاں دینے کا مطالبہ کررہے ہیں اور پیوتن کو اب نئی مدت صدارت میں مختلف حالات کا سامنا ہوگا۔

پیوتن اکتوبر میں ساٹھ سال کے ہوجائیں گے۔وہ ماضی میں روس کی خفیہ ایجنسی(کے جی بی) کی ملازمت کرتے رہے تھے اور انھوں نے سوویت یونین کے دور میں کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں کے جی بی کے جاسوس کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ وہ سن 2000ء میں پہلی مرتبہ اور 2004ء میں دوسری مرتبہ روس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2008ء میں انھوں نے اپنی جگہ اپنے سیاسی جانشین دمتری میدویدیف کو صدر منتخب کرایا تھا اور وہ خود ملک کے وزیراعظم بن گئے تھے۔

ولادی میر پیوتن مارچ میں قریباًچونسٹھ فی صد ووٹ لے کر تیسری مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن تجزیہ کاروں نے الزام عاید کیا تھا کہ انھیں انتخابات میں جتوانے کے لیے سرکاری مشینری کو بے دریغ استعمال کیا گیا تھا۔ولادی میر پیوتن کی جگہ اب سابق صدر دمتری میدویدیف ملک کے نئے وزیراعظم بن گئے ہیں۔اس طرح انھوں نے آپس میں عہدوں کا تبادلہ ہی کیا ہے۔