اسرائیلی عدالت عظمیٰ نے اپنی غیرقانونی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے دو فلسطینی قیدیوں کی اپیلیں مسترد کردی ہیں۔
اسرائیلی جیلوں میں قید ستائیس سالہ بلال دیاب اور چونتیس سالہ ثائرہلاہلہ کے وکیل جمیل الخطیب نے بتایا ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے ان دونوں کی رہائی کے لیے اپیلیں مسترد کردی ہیں۔انھوں نے گذشتہ انہتر روز سے کھانا پینا چھوڑ رکھا ہےجس کی وجہ سے ان کی صحت بگڑچکی ہے۔
جمیل الخطیب نے بتایا کہ ''وہ معاملے کے منطقی انجام تک اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے''۔انھوں نے کہا کہ اسرائیلی عدالتیں انتظامی حراست کے کیسوں کے ساتھ مثبت انداز میں معاملہ نہیں کرتی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی انٹیلی جنس سروسز ہی کو اس معاملے میں حتمی اختیار حاصل ہے۔
چند روز قبل ان دونوں کو ان کی خراب حالت کے پیش نظر تل ابیب کے نزدیک واقع رملے جیل کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔بھوک ہڑتال کے بعد دونوں قیدیوں کا پچیس سے تیس کلو گرام وزن کم ہوچکا ہے۔ انھیں اسرائیلی حکام نے کسی الزام کے بغیر انتظامی حراستی احکامات کے تحت پابند سلاسل کررکھا ہے اوراس قانون کے تحت انھیں مزید چھے ماہ کے لیے قید رکھا جاسکتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ثائرہلاہلہ جون دوہزار گیارہ سے اور دیاب اگست دوہزار گیارہ سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔ان دونوں کا تعلق فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد سے ہے۔انھوں نے انتیس فروری کو اپنی حراست مدت میں توسیع کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔
ان دونوں کے علاوہ اسرائیلی جیلوں میں قید ڈیڑھ ہزار سے ڈھائی ہزار فلسطینیوں نے صہیونی حکام کے ناروا سلوک کے خلاف گذشتہ انیس روز سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔اسرائیلی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے کسی قیدی کی موت کی صورت میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انتفاضہ تحریک شروع ہوسکتی ہے۔
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اپنی قید تنہائی اور انتظامی حراست کے خاتمہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔درایں اثناء اسرائیلی جیل سروس نے قیدیوں کو بعض سہولتیں دینے سے اتفاق کیا ہے لیکن ان کی انتظامی حراستی ختم کرنے کے مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اسرائیلی محکمہ جیل خانہ جات کی خاتون ترجمان نے ہفتے کے روز ایک بیان میں بتایا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے دس قیدیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
اسرائیلی جیلوں میں قید آٹھ دوسرے فلسطینیوں نے بھی صہیونی حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف گذشتہ پچاس روز سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔یہ افراد کو کسی الزام کے بغیر اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں۔انھیں نہ تو کسی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے اور نہ ان کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔اس وقت اسرائیلی جیلوں میں چارہزار چھے سو ننانوے فلسطینی مختلف الزامات کے تحت قید ہیں۔ان میں سے تین سو انیس کو انتظامی حراستی قانون کے تحت فلسطینی علاقوں سے گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔