الجزائر میں انتخابات عوام کی توہین ہیں: حزب اختلاف کا بائیکاٹ
ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہنے کی پیشین گوئیاں
الجزائر میں حزب اختلاف کی ایک جماعت نے دس مئی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور یہ پیشین گوئی کی ہے کہ ان میں ووٹ ڈالنے کی شرح پندرہ فی صد تک رہے گی۔
حزب اختلاف کی جماعت ریلی برائے کلچر اور جمہوریت (آر سی ڈی) کا کہنا ہے کہ بیشتر الجزائری ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔جماعت کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ اتمان مازوز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''الجزائری مرد اور عورتیں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کے تحت تشکیل پائے ادارے ان کے تحفظات کے اظہار کا مناسب پلیٹ فارم نہیں ہیں''۔
واضح رہے کہ الجزائر میں جمعرات کو ہونے والے ان انتخابات کے لیے عوام اور خاص طور پر نوجوان طبقے میں کوئی جوش و خروش نظر نہیں آتا ہے اوران میں دوہزار سات کے مقابلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہنے کا امکان ہے۔
آر سی ڈی کے ایک رکن پارلیمان عایدر آرزکی نے کہا کہ ''میرے نزدیک ووٹ ڈالنے کی شرح تیرہ، چودہ فی صد رہے گی یا پھر زیادہ سے زیادہ سولہ، سترہ فی صد تک رہے گی''۔
تاہم نیشنل لبریشن فرنٹ کے سیکرٹری جنرل عبدالعزیز بالخادم نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح پینتالیس فی صد تک رہے گی۔
آر سی ڈی نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے گذشتہ سال عرب بہاریہ تحریکوں کے دوران پیش کیے گئے اصلاحات کے پیکج کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ پارلیمان نے فراڈ اور دھاندلیوں سے جنم لیا تھا، اس لیے اس پیکج کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
مازوزکا کہنا تھا کہ ''اصلاحات کا مقصد جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنا ہے اور ایک غیر قانونی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش الجزائری عوام کی توہین ہے۔
الجزائر کی موجودہ پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستوں کی حامل تین بڑی جماعتیں حکومتی اتحاد میں شامل ہیں اور تجزیہ کاروں کے بہ قول پارلیمانی انتخابات جمہوریت کے نام پر ایک دھبہ ہیں اور ان سے کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہو گی۔