مصر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل امیدواروں نے صدر جمہوریہ کی اہلیہ کے سیاست میں حصہ لینے کی مخالفت کرتے ہوئے بیگم کے لیے "خاتون اول " کے خطاب کو مسترد کر دیا ہے۔ تمام مصری صدارتی امیدواروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ "خاتون اول" کی اصطلاح اور مغرب سے مصر میں درآمد کی گئی تھی، اب اس کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ کوئی منتخب صدر یہ اصطلاح استعمال نہیں کرے گا۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق آزاد صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبدالمنعم ابو الفتوح کا کہنا ہے کہ آئین میں صدر کی اہلیہ کےلیے کسی خاص لقب کا کوئی تذکرہ نہیں اورنہ ہی اس کے لیے کسی عہدے یا منصب کی بات کی گئی ہے۔ صدرکی اہلیہ کو ایسی ہی زندگی گزارنی چاہیے جیسے وہ اپنے شوہر کے صدر بننے سے قبل تھی۔ صدر کی بیگم اور ایک عام مصری شہری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔
ڈاکٹرابو الفتوح نے کہا کہ ان کی اہلیہ علیاء بچوں کے پیدائش کے امور کی ایک کنسلٹنٹ ہے۔ میں صدر منتخب ہو گیا تب بھی اس کی وہی حیثیت رہے گی، وہ ایک عام شہری کے طور پر زندگی گزارے گی۔ سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرابو الفتوح کا کہنا تھا کہ مصر میں جب "مرد اول" کوئی نہیں تو "خاتون اول" کیسے ہو گی۔ جمہوریہ مصر میں "مرد اول" پوری قوم ہے اور صدر کی حیثیت قوم کے ایک ملازم اور خادم کی ہونی چاہیے۔
اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل اور صدارتی امیدوار عمرو موسیٰ نے کہا کہ "خاتون اول" کی اصطلاح امریکا سے درآمد شدہ ہے۔ میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کی صدر کی بیوی سیاسی امور میں مداخلت شروع کرے، اس کا سیاست میں کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اپنے شوہر کے بلند منصب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر کی بیگم سیاسی میدان میں اترے گی تو یہ بہت بڑی غلطی ہو گی"۔
ایک دوسرے صدارتی امیدوار حمد ین الصباحی کا کہنا تھا کہ صدرکی اہلیہ کو محض شوہر کے صدر بننے پر اپنا طرز زندگی نہیں بدلنا چاہیے۔ وہ شوہر کے صدر منتخب ہونے کے بعد بھی اسی طرح زندگی گزارے جیسے انتخاب سے قبل ایک عام شہری کی حیثیت سے گذار رہی تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق صدر مرحوم جمال عبدالناصر کی اہلیہ کی مثال دی اور کہا کہ جمال عبدالناصر کی اہلیہ نے خود کو سیاست میں آلودگی سے بچائے رکھا تھا۔
قاہرہ سے "العربیہ" ٹی وی کے خصوصی پروگرام "صدارتی دوڑ" میں اینکر پرسن راندہ ابوالعزم سے خصوصی گفتگو کرتےہوئے مصری خاتون صحافی منیٰ رجب نے کہا کہ "حالیہ کچھ عرصے سے جو چلن عام ہوا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ صدر کی اہلیہ کا بھی معاشرے میں ایک حساس کردار ہے۔ تاہم صدر کی بیگم کو خود کو فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رکھنا چاہیے"۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے اخوان المسلمون کی خاتون رُکن پارلیمنٹ عزت الجرف نے کہا کہ صدر کی اہلیہ کا کردار پروٹوکول کی حد تک ہونا چاہیے، اس کا سیاست میں کوئی کام نہیں۔ صدر کی اہلیہ کو چاہیے کہ وہ سیاست سے ہٹ کر کسی دوسرے پیشے کو اپنائے، استانی بن جائے، ڈاکٹر یا منصفہ بن جائے لیکن سیاست نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مصرمیں صدرکی اہلیہ کا سیاسی میدان میں اترنے کو کوئی بھی پسند نہیں کرے گا۔ لہٰذا کسی بھی صدر کی اہلیہ کو یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ اس کا شوہر کرسی صدارت پر فائز ہے۔ ہاں اگر صدرکی بیگم عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے تو سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کا میدان بہت وسیع ہے۔