ایران کے شمالی صوبہ آذربائیجان میں "تراختور سازی تبریز" کلب کے زیر اہتمام فٹ بال کے ایک علاقائی مقابلے کے دوران پہلی مرتبہ تماشائیوں نے مروجہ نعرے"خلیج فارس" کے بجائے" خلیج عرب" کے حق میں نعرے بازی کر کے حکام کو حیران وششدر کر دیا۔
خیال رہے کہ ایران کے شمالی صوبہ آذربائیجان میں ترکوں کی اکثریت ہے۔ ایران میں کسی بھی کھیل کے مقابلے میں عربوں کی حمایت میں نعروں کی بازگشت ایک "انہونا" واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ترک شہریوں نے آذربائیجان کے ایک بڑے فٹ بال اسٹیڈیم "تبریز" میں ہونے والے کھیل کے مقابلے کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پرشائع کی ہے۔ اس ویڈیو میں تماشائیوں کو "خلیج فارس" زندہ باد کے بجائے "خلیج عرب" زندہ باد کے حق میں نعرے بازی کرتے دکھا یا گیا ہے۔ عربوں کے حق میں ہونے والی اس نعرے بازی نے "فارسی قومیت" کے علمبرداروں کو سخت مشتعل کیا ہے، جو خلیج فارس کے نعروں کو قومی اور حکومتی "انا" کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
ایران کے کسی صوبے میں خلیج فارس کے بجائے "خلیج عرب" کے حق میں نعرے بازی باعث حیرت ضرور ہے تاہم اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ صوبہ آذربائیجان میں غیر فارسی قومیت کے بارے میں شعور بڑھ رہا ہے اور لوگ اہل فارس (ایرانیوں) کی بالادستی کے بجائے اپنی آزادی اور خودمختاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
کچھ عرصہ پیشتر آذربائیجان کے کلب" تراختور سازی" کے زیر اہتمام ہونے والے فٹ بال کے ایک مقابلے کے دوران بھی صوبائی ترک تماشائیوں نے "برسبولیس" کلب کے کوچ علی دائی اور دو دیگر کھلاڑیوں کے خلاف نعرے بازی کی تھی کیونکہ انہوں نے کھیل کے دوران ترک قومیت کی روایات کے برخلاف کردارادا کیا تھا۔
فٹ بال کے ایک حالیہ مقابلے میں خلیج فارس کے بجائے"خلیج العربی" کے حق میں نعرے لگانے والے ترک آذربائیجانی تماشائیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے بعد بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ ان کی ٹیم جب اور جہاں بھی عالمی مقابلوں میں حصہ لے گی۔ وہ اس دوران ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے "خلیج عرب زندہ باد" کے نعرے لگائیں گے۔
خیال رہے کہ آذربائیجان کے فٹ بال کلب"تراختورسازی" کو ملک کے دوسرے بڑے فٹبال کلب کی حیثیت حاصل ہے۔ فارسی قومیت رکھنے والوں کے بعد ایران میں ترک باشندے فٹ بال کی شائقین کی دوسری بڑی تعداد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد کرد، عرب، بلوچ اور ترکمانوں کا نمبرآتا ہے۔
ایران میں غیر فارسی کلبوں کی بڑھتی مقبولیت پرتہران حکومت بھی حیران و پریشان ہے۔ خاص طورپر جب ایشیائی اور علاقائی کھیل کے مقابلوں میں ایرانی حکومت کو اپنےملک کے اندر سے"عرب زندہ باد" کے نعرے سننے کو ملتے ہیں تو ان پرسخت ناگوار گذرتے ہیں۔