مصر میں سپریم الیکشن کمیشن نے مسلح افواج پر مشتمل سپریم عسکری کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے آئینی اختیارات اور پارلیمنٹ کے فیصلوں میں مداخلت سے گریز کرے اور الیکشن کمیشن کو صدارتی انتخابات کے لیے تیاری کا موقع فراہم کرے تاکہ صدر جمہوریہ کے انتخابات کو طے شدہ شیڈول کے مطابق کرایا جاسکے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج یا کسی بھی دوسرے ریاستی ادارے کی طرف سے پارلیمنٹ کے فیصلوں کو بائی پاس کیے جانے سے صدارتی انتخابات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تمام اداروں کو اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہ کرکام کرنا چاہیے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ بیان پارلیمنٹ میں انتخابی قانون میں ترامیم کی منظوری کے کچھ ہی دیر بعد جاری کیا گیا ہے۔ ان ترامیم میں قرار دیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کوئی رُکن انتظامیہ، پیپلز اسمبلی اور مجلس شوریٰ کا کوئی عہدہ نہیں سنھبال سکتا اور نہ ہی ان کا رکن رہ سکتا ہے۔ نیز الیکشن کمیشن کے تمام اراکین کی مدت ملازمت نو منتخب صدر کی مدت صدارت پوری ہونے تک رہے گی۔
اس کے علاوہ آئین میں ترمیم کے بعد انتخابی مہم کی خلاف ورزی کرنے والے امیدوار کی گرفتاری کی سزا ختم کر کے صرف بیس ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ جرمانے کا تعین پر بھی سپریم الیکشن کمیشن کے اختیار میں ہو گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ"انتخابی دفعات میں ترمیمی بحث کے دوران کچھ اداروں کی طرف سے حدود سے تجاوز پر مبنی بیانات اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سننے کو ملی جس سے الیکشن کمیشن کا اعتماد مجروح ہونے کا اندیشہ ہے"۔
الیکشن کمیشن نے سیاسی حلقوں کی جانب سے نہایت برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور ایسے امیدواروں جن کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں سے متاثر ہوئے ہیں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بتا دیا ہے کہ اس نے جو بھی فیصلے کیے ہیں وہ آئین اور قانون کے نفاذ کے لیے کیے ہیں۔ اس میں کمیشن کا اپنا کوئی مفاد نہیں۔
انتخابی کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا کرنے سے کمیشن کے روزمرہ کے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور وہ اپنی منشاء اور آئین کے مطابق کام نہیں کر پا رہا۔
الیکشن کمیشن نے صدارتی امیدواروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ رکھی گئی مشترکہ میٹنگ بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ یہ میٹینگ آج منگل کو ہونا تھی۔