منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 17 جمادى الثانية 1433هـ - 08 مئی 2012م KSA 21:28 - GMT 18:28

کوفی عنان شام کی صورت حال پر اقوام متحدہ کو بریفنگ دیں گے

شام:بشارالاسد کے خلاف تحریک کے دوران 1122 بچوں کی ہلاکتیں

منگل 17 جمادى الثانية 1433هـ - 08 مئی 2012م
نیویارک/دبئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران ایک ہزار ایک سو بائیس بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان آج منگل کو شام کی صورت حال سے متعلق اپنی نئی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کررہے ہیں اورعالمی ادارے کے سربراہ بین کی مون نے خبردار کیا ہے کہ عالمی لیڈروں کے پاس شام میں مکمل خانہ جنگی سے بچنے کے لیے بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے والے گروپ مقامی رابطہ کمیٹیوں (ایل سی سی) نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ سال مارچ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد ایک ہزار ایک سو بائیس ہوگئی ہے۔

ایل سی سی کی رپورٹ کے مطابق ان میں پانچ سو چوبیس بچے وسطی شہر حمص، ایک سو سینتالیس حماہ ،ایک سو تین ادلب ،ایک سو انتیس دمشق اور اس کے نواحی علاقوں ، چھیالیس دیر الزور اور پندرہ حلب اور آٹھ للذاقیہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں یا جھڑپوں میں لقمہ اجل بنے تھے۔

کوفی عنان کی نئی رپورٹ میں ان کے شام میں قیام امن کے لیے منصوبے اور بارہ اپریل سے جاری جنگ بندی کے بعد کی صورت حال کا احاطہ کیا گیا ہے اور ملک میں جاری خونریزی روکنے کے لیے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

وہ ایسے وقت میں سلامتی کونسل میں اپنی یہ رپورٹ پیش کررہے ہیں جب شام میں عالمی مبصرین کی موجودگی کے باوجود تشدد کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔العربیہ کی اطلاع کے مطابق سوموار کو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پنتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے خبردار کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے پاس شام میں مکمل خانہ جنگی سے بچنے کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہے اور شامی حکومت عالمی مبصرین کی موجودگی کو اپنے مخالفین کے خلاف نئے حملے کی تیاری کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

بین کی مون نے واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک بحر اوقیانوس کونسل کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر صدربشارالاسد کی سکیورٹی فورسز کی ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کی لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن گروپوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم ہر روز بڑی خوفناک تصویریں دیکھ رہے ہیں۔ فوجی شہری مراکزپر فائرنگ کررہے ہیں۔بے گناہ شہری اور بچے مر رہے ہیں ۔سکیورٹی فورسز کے اہلکار لوگوں کو ظالمانہ انداز میں گرفتار کررہے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں''۔انھوں نے عالمی مبصرین کے مشن کو مشکل وقت میں ایک مشکل مشن قراردیا اور کہا کہ بشارالاسد کی حکومت کو کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شہروں سے فوجیوں اور ہتھیاروں کو کسی تاخیر کے بغیر واپس بلانا چاہیے۔

قبل ازیں بین کی مون نے ایک اور بیان میں شام میں گذشتہ روز منعقدہ پارلیمانی انتخابات کی مذمت کی اور کہا کہ ایک جامع اور تمام فریقوں کی شمولیت سے سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی شام میں ایک حقیقی مستقبل کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں انتخابات اس فریم ورک کے تحت نہیں ہوئے ہیں۔

شام میں پہلی مرتبہ سوموار کو کثیر جماعتی پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں اور باغی گروپوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان کی دوسو پچاس نشستوں کے لیے سات ہزار ایک سو پچانوے امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا جبکہ ایک کروڑ چالیس لاکھ شامی ووٹ دینے کے اہل تھے۔

نئے آئین کی منظوری کے تین ماہ کے بعد منعقدہ ان انتخابات سے قبل نو جماعتوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی تھی اور ان میں سے سات نےاپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔صدر بشارالاسد کی جماعت بعث پارٹی کی قیادت میں قومی ترقی پسند محاذ کے نام سے اتحاد تشکیل دیا گیا ہے اور اسے ماضی کے تجربات کے پیش نظر ان انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہونے کا امکان ہے۔