منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 18 جمادى الثانية 1433هـ - 09 مئی 2012م KSA 06:54 - GMT 03:54

ایجنسی کے رکن 190ممالک کو خبردار کر دیا گیا

انٹرپول: مفرور عراقی نائب صدر کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری

منگل 17 جمادى الثانية 1433هـ - 08 مئی 2012م
طارق الہاشمی پرعراق میں ڈیتھ اسکواڈ کی سرپرستی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
طارق الہاشمی پرعراق میں ڈیتھ اسکواڈ کی سرپرستی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

عالمی پولیس ایجنسی انٹرپول نے عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کی دہشت گردی کے حملوں میں معاونت کے الزام میں گرفتاری کے لیے بین الاقوامی ریڈ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

فرانس کے شہر لیون میں قائم ایجنسی نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''طارق الہاشمی کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے ایجنسی کے ارکان تمام ایک سو نوے ممالک کو خبردار کر دیا گیا ہے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''انٹرپول کسی رکن ملک سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ وہ جس شخص کے خلاف ریڈ نوٹس وارنٹ گرفتاری جاری کیا گیا ہے، اس کو گرفتار بھی کرے بلکہ مطلوب شخص کو اس وقت تک بے گناہ سمجھا جانا چاہیے جب تک وہ قصوروار ثابت نہیں ہو جاتا''۔

طارق الہاشمی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں عراق کے عدالتی نظام پر کوئی اعتقاد نہیں ہے اور ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔انھوں نے ترکی کے شہر استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے عدالت کے معیار پر کوئی بھی اعتبار نہیں ہے''۔

عراق کے نائب صدر کے خلاف بغداد کی ایک عدالت میں جمعرات سے ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام عاید کیا گیا تھا۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کو تہلیل کر دیا تھا جس کے بعد طارق الہاشمی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے بغداد میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔ان کی خلاف مقدمے کی مزید سماعت بارہ مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

انھوں نے عراق کی مرکزی فوجداری عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کو چیلنج کررکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تو سیدھے سبھاؤ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی عدالت کو ان کے خلاف اس مقدمے کی سماعت کرنی چاہیے تھی۔

طارق الہاشمی گذشتہ ایک ماہ سے استنبول میں مقیم ہیں۔اس سے قبل انھوں نے قطر اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے اگلےروز کہا کہ وہ جلد کردستان کے دارالحکومت اربیل لوٹیں گے۔عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت نے دسمبر میں ان کے خلاف ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ وہ اس کے بعد بغداد سے فرار ہوکر شمالی عراق چلے گئے تھے اور وہاں خودمختارعلاقے کردستان کی حکومت کے ایک سرکاری مہمان خانے میں مقیم رہے تھے۔

انھوں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو فرقہ واریت پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ الزامات انھیں سیاسی طور پر ختم کرنے کے لیے عاید کیے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نوری المالکی اور ان کی حکومت کے دوسرے عہدے داروں نے متعدد مرتبہ کردحکام سے طارق الہاشمی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن کردحکام نے انھیں بغداد حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مفرور نائب صدر نے نوری المالکی کی حکومت پر الزام عاید کیا تھا کہ ان کے محافظوں اور دوسرے ملازمین کو خفیہ جیلوں میں قید کرکے انھیں وہاں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے گَئے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے دو محافظ ہلاک ہوگئے تھے مگر عراقی حکومت نے ان کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔

واضح رہے کہ ماضی میں طارق الہاشمی کے محافظوں کے اعترافی بیانات ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے تھے۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے نائب صدر کے سولہ محافظوں کو سرکاری حکام اور ججوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان پر خاموش بندوقوں اور پستولوں کے ذریعے افسروں اور ججوں کو قتل کے الزامات میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔