اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حزب مخالف کادیما پارٹی کے درمیان ایک وسیع البنیاد مخلوط حکومت کے قیام کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے بعدصہیونی پارلیمان نے قبل ازوقت انتخابات کے لیے قرارداد پر رائے شماری موخر کردی ہے۔
کادیما پارٹی کے ایک لیڈر اور سابق وزیرخزانہ میر شیتریت نے اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ''ہم قبل ازوقت انتخابات سے بچ گئے ہیں اور اب ایک وسیع البنیاد حکومت بنائی جائے گی''۔
لیکوڈ پارٹی اور کادیما کے درمیان اس سمجھوتے کے تحت اب وزیراعظم نتین یاہو کو پارلیمان (الکنیست) کے ایک سو بیس ارکان میں سے چورانوے کی حمایت حاصل ہوجائے گی اور ان کی حکومت ٹوٹنے سے بچ جائے گی۔
نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے چار ستمبر کو قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد الکنیست کی تہلیل کے بارے میں بحث ومباحثہ شروع ہوگیا تھا اور اس ضمن میں ممکنہ طور پر منگل ہی کو قرارداد پر رائے شماری ہونے والی تھی لیکن لیکوڈ اور کادیما پارٹی نے خفیہ مذاکرات کے بعد اچانک وسیع البنیاد مخلوط حکومت کی تشکیل کا اعلان کردیا ہے۔
اس فیصلہ کے چند گھنٹے کے بعد الکنیست نے بھی تہلیل کے لیے قرارداد پر رائے شماری نہ کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت کادیما پارٹی کے سربراہ شاؤل موفاز کو مخلوط حکومت میں نائب وزیراعظم بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ کادیما کے ارکان پارلیمان کو خارجہ امور،دفاع اور اقتصادی امور کی کمیٹیوں کی سربراہی سونپی جائے گی۔معاہدے میں فلسطینیوں کے ساتھ امن عمل کی بحالی کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کادیما کی الکنیست میں اٹھائیس نشستیں ہیں اور اس کی جانب سے نیتن یاہو کی حکومت کی حمایت کے بعد وہ سن دوہزار تیرہ کے آخر یعنی اپنی آئینی مدت پوری ہونے تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں گے۔ان کی حکومت میں کٹڑ اور انتہا پسند یہود کی جماعتیں شامل ہیں جو کٹڑ یہودیوں کے لیے لازمی فوجی تربیت کی مخالفت کررہی ہیں اور انھیں اس سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
شاؤل موفاز ماضی قریب میں نیتن یاہو کے سخت ناقد رہے ہیں اور وہ انھیں جھوٹا اور اسرائیل کی تاریخ کا بدترین وزیراعظم قراردے چکے ہیں لیکن اب وہ خود ہی ان کی حکومت کے تحت عہدہ قبول کرنے کو تیار ہوگئے ہیں۔
مارچ میں کادیماپارٹی کی صدارت سنبھالنے سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ''ان کی قیادت میں ان کی جماعت نیتن یاہو کی بُری ،ناکام اور غیر ذمے دار حکومت میں شامل نہیں ہوگی بلکہ وہ آیندہ انتخابات میں نیتن یاہو کی جگہ لے گی''۔ انھوں نے اسرائیلی روزنامے ہارٹز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے پالیسی پر بھی وزیراعظم نیتن یاہو کی مذمت کی تھی۔