منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: منگل 17 جمادى الثانية 1433هـ - 08 مئی 2012م KSA 20:11 - GMT 17:11

بھاری ہتھیار بدستور شہروں میں موجود،اسد مخالفین کی پکڑ دھڑ جاری

شام میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آخری موقع ہے:کوفی عنان

منگل 17 جمادى الثانية 1433هـ - 08 مئی 2012م
شام کے قصبے کفرنبل میں شہری صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہرے  میں شریک ہیں۔
شام کے قصبے کفرنبل میں شہری صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک ہیں۔
نیویارک/دبئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان اور عالمی ادارے کے امن مشن کے سربراہ ہرو لاڈسوس نے شام کی صورت حال سے متعلق اپنی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کردی ہے جس میں کہا ہے کہ شامی فوج ابھی تک بھاری ہتھیاروں کے ساتھ شہروں اور قصبوں موجود ہے۔البتہ اب ان ہتھیاروں کی تعداد کم ہوگئی ہے لیکن حکومت مخالفین کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

کوفی عنان نے جنیواسے ویڈیو لنک کے ذریعے پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو شام کی تازہ صورت حال اور بحران کے حل کے لیے اپنے چھے نکاتی فارمولے کے بارے میں بریف کیا ہے۔ انھوں نے سلامتی کونسل کوبتایا کہ ''ان کا چھے نکاتی امن منصوبہ کسی قسم کی حدودوقیود سے آزاد نہیں ہے بلکہ شام میں خانہ جنگی سے بچنے کا آخری موقع ہے''۔

اقوام متحدہ میں متعین سفارت کاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''کوفی عنان کا کہنا تھا کہ قیام امن کی کوشش شامی صدر بشارالاسد کے لیے کوئی کھلا موقع نہیں ہے''۔

مسٹر لاڈسوس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شام میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور فوج کی بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کم ہوئی ہیں۔تاہم ابھی محتاط اور منظم انداز میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور حکومت مخالفین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں''۔ ایک سفارت کار کے بہ قول لاڈسوس نے بتایا کہ ''شامی شہروں میں ابھی تک سکیورٹی فورسز اور بھاری ہتھیار موجود ہیں''۔

کوفی عنان نے سلامتی کونسل میں اپنے بیان میں خاص طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مزید گرفتاریوں اور تشدد کے ساتھ ان خلاف ورزیوں میں تیزی لائی جاسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ عدم تشدد کی وکالت کرنے والوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں فوجی مہم کے خاتمے اور سیاسی عمل کے آغاز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا صدر بشارالاسد کی بنیادی ذمے داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تشدد کی دوسری شکلوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے تو فوجی کارروائیوں میں کمی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ اس وقت شام میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے پچاس مبصرین موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں بارہ اپریل سے جاری جنگ بندی کی نگرانی کے لیے تین سو عالمی مبصرین بھیجنے کی منظوری دی تھی لیکن تنظیم کے رکن ممالک نے اب تک صرف ایک سو پچاس مبصرین کو شام میں تعینات کرنے کی پیش کش کی ہے۔

شام کے لیے عالمی مبصرمشن کی ابتدائی مدت نوے دن مقرر کی گئی تھی اور یہ مدت جولائی کے وسط میں ختم ہوگی۔تاہم بعض مغربی ممالک نے شام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اپنے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ اس کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

کوفی عنان نے گذشتہ ماہ شامی حکومت کو پیش کردہ چھے نکاتی امن منصوبہ میں کہا تھا کہ وہ ہر طرح کے تشدد کے خاتمے کا وعدہ کرے،روزانہ دوگھنٹے کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کی غرض سے جنگ بندی کی جائے اور لڑائی سے متاثرہ تمام علاقوں تک میڈیا کو رسائی دی جائے۔اس کے علاوہ اس میں شام کی تمام جماعتوں کی شمولیت سے سیاسی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور یہ کہا گیا کہ لوگوں کو مظاہروں کا حق دیا جائے اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں گذشتہ سوا ایک سال سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران نو ہزار پانچ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے اعداد وشمار کے مطابق شام مں تشدد کے واقعات میں گیارہ ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔شام میں جاری خانہ جنگی جیسی صورت حال کے بعد چالیس ہزار سے زیادہ شہری اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں چلے گئے ہیں اور دولاکھ اپنے ہی ملک میں دربدر ہیں۔