یمن: علی صالح کا اختیارات سے تجاوز، صدر کے ساتھ نئے تنازع کا باعث

سفرا سے ملاقاتیں اور نو منتخب صدور کو تہنیتی برقیے

نشر في:

یمن میں تین ماہ قبل اکیس فروری کو ہوئے صدارتی انتخابات اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے چونتیس سالہ اقتدار کےخاتمے کے باوجود سابق صدر اب بھی بدستور ریاستی نظم ونسق میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں۔ یہ مداخلت ان کے حریف صدر عبد ربہ منصور اور ان کی نگرانی میں کام کرنے والی عبوری حکومت کے ساتھ ایک نئے تنازع کا باعث بن رہی ہے۔

سابق صدر علی عبداللہ صالح گو کہ ملک کے صدر نہیں رہے ہیں۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل اور عوامی دباؤ کے تحت عہدہ صدارت تو چھوڑ دیا تھا تاہم وہ اپنی پارٹی جنرل پیپلز کانگریس کے اب بھی "بے تاج بادشاہ" ہیں۔ وہ اسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے میڈیا کے سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں اپنی "موجودگی" کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ چونتیس سال سے بر سر اقتدار صدر علی عبداللہ صالح کا نشہ اقتدار اب بھی کم نہیں ہوا ہے۔ چار و ناچار انہوں نے صدارت کا منصب تو اپنے نائب کے لیے خالی کر دیا تاہم وہ اب بھی ریاستی معاملات میں کھلا کھلا مداخلت کر رہے ہیں۔

پچھلے دو ایام میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی بعض سرگرمیوں سے ایسے لگ رہا تھا کہ ملک کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نہیں بلکہ اب بھی علی صالح ہی صدر ہیں۔ انہوں نے شام کی صورت حال پر غور کے لیے چینی سفیر سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر تفصیل سے بات چیت کی۔

بعد ازاں انہوں نے روس کے صدر ولادی میر پوتین کے دوبارہ کامیابی پر انہیں تہنیتی پیغام بھیجا اور ساتھ ہی انہوں نے فرانس میں صدارتی انتخابات میں نئے منتخب صدر اولانڈ کو مبارک باد کا تار بھیجا ہے۔ ان کی یہی سرگرمیاں موجودہ صدر عبد ربہ منصور یادی اور ان کی کابینہ کو سخت ناگوار گذر رہی ہیں۔

یمن کے انقلابی رہ نما اور سیاسی تجزیہ نگار کامل الشرعبی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ علی عبداللہ صالح پر چونتیس سالہ آمریت کے دوران اقتدار اور اختیارات کا جو نشہ سوار ہو چکا ہے وہ اب کسی طور بھی اترنے والا نہیں ہے۔

گذشتہ برس جب وہ ایک حملے میں زخمی ہو کر علاج کے لیے سعودی عرب چلے گئے اور ان کی جگہ عبد ربہ منصور ہادی قائم مقام صدر تھے، تب بھی اپنی بیماری کے باوجود علی صالح سعودی عرب سے پیغامات ریکارڈ کرا کے یمنی ٹیلی ویژن پر نشر کراتے، حالانکہ ان کے قائم مقام کے ہوتے ہوئے اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اب رسمی طور پر تو ان کے پاس کوئی عہدہ واختیار نہیں۔ تاہم وہ فوج، میڈیا، قبائل اور سیاسی حلقوں میں اپنی موجودگی کی پوری جنگ لڑ رہے ہیں"۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ "صرف یہی نہیں بلکہ خلیجی امن فارمولے کے تحت جب یمن میں قومی وفاق حکومت کی حلف برداری کی تقریب تھی، علی عبداللہ صالح اس وقت بھی اپوزیشن کی حکومت میں شمولیت پر سخت برہم تھے۔ وہ مجبوراً قومی حکومت کے ارکان سے حلف بھی لے رہے تھے اور ساتھ ہی انہیں دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔

ان کے نائب عبد ربہ منصورہ ہادی نے جب اس سال فروری میں اپنی انتخابی مہم شروع کی تو اس وقت علی عبداللہ صالح امریکا میں زیر علاج تھے۔ ادھر انتخابی مہم کی خبریں گرم تھیں اور دوسری جانب سرکاری خبر رساں ایجنسی "سباء"یہ خبریں جاری کر رہی تھی علی صالح جلد وطن واپس آ کر سیاسی انتظام سنھبالیں گے۔

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور نئے صدر عبد ربہ منصور ہادی کے درمیان ان دنوں اقتدار اور اختیار کی اسی رساکشی کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض سیاسی مبصرین اقتدار و اختیار کی اس جنگ کو ملک کے سیاسی نظام کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔