شام میں منگل کے روز تشدد کے مختلف واقعات میں مزید اٹھارہ افراد ہلاک اور دسیوں زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں۔ تازہ ہلاکتیں باغیوں کے مرکزی شہر حمص، درعا، حماۃ، دمشق اور ادلب میں ہوئیں جہاں صدر بشار الاسد کی حامی فوج نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں اور طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے۔
شام میں انسانی حقوق کی رابطہ کمیٹیوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق منگل کو صدر بشار الاسد کی حامی فوج نے حماۃ شہر کے دو مرکزی داخلی راستوں کی ناکہ بندی کرنے کے بعد قلعہ المضیق پر گولہ باری کی۔ جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ حمص میں "تلکح" اور قلعہ "حصن" پر گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ حلب میں گرفتار افراد کی رہائی کے لیے نکالے گئے ایک جلوس پر بھی فائرنگ کی گئی، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور دسیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شامی جنرل انقلاب کونسل کے مطابق درعا شہر میں الکتیبہ کے مقام پر سرکاری فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔ خربہ غزالہ کے مقام پر دو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اسی شہر میں عثمان ٹاؤن میں باغی فوجیوں اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان سخت جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ شدید فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔
درعا اور دمشق کےکئی اضلاع میں سول نافرمانی کی تحریک اور ہڑتال جاری ہے۔ ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے سرکاری فوج نے پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ دمشق میں دوما کے مقام سے کئی افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ دمشق کے نواحی قصبے الزبدانی میں بھی گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ریڈ کراس نے شام میں تشدد کے تازہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حامی فوجیوں کے ہاتھوں سویلین کی ہلاکتیں عالمی معائنہ کاروں کی موجوگی میں ہو رہی ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی معائنہ کار شہروں میں قیام امن کی کوئی کامیاب کوشش نہیں کر پائے ہیں۔