مصر کی ایک انتظامی عدالت نے نیا فیصلہ جاری کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم احمد شفیق کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کو"باطل"قرار دیا ہے۔ عدالت نے سابق حکومت میں شامل سیاست دانوں پر دس سال کے لیے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کے قانون کو دستوری عدالت کے سپرد کرنے کی بھی مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
قبل ازیں مصری پارلیمنٹ نے احمد شفیق کو پچھلے دس سال کے دوران سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کے قانون کے تحت صدارتی انتخابات کے لیے نا اہل قرار دینے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد وہ انتخابی عمل سے خارج ہو گئے تھے، تاہم انہوں نے اپنی نااہلی کو سپریم الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تو الیکشن کمیشن نے انہیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی۔ ساتھ ہی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کے قانون کو سپریم دستوری عدالت میں بھجوا دیا تھا۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق قاہرہ میں انتظامی عدالت کی طرف سے منگل کی شام جاری ہونے والے فیصلے میں سیاست پر پابندی کے قانون کو سپریم دستوری عدالت میں لے جانے کو بھی"باطل" قرار دیا ہے اور کہا ہے اس اقدام کے کئی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق انتظامی عدالت نے احمد شفیق کے کیس پر اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم دستوری عدالت میں کسی فریق کا کیس اس وقت بھجویا جاتا ہے جب اس پر باضابطہ طور پر مقدمہ چل رہا ہو۔