منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 18 جمادى الثانية 1433هـ - 09 مئی 2012م KSA 15:37 - GMT 12:37

کوفی عنان جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے دمشق جائیں گے

شام: اقوام متحدہ کے مبصرین کے قافلے کے سامنے بم دھماکا

بدھ 18 جمادى الثانية 1433هـ - 09 مئی 2012م
جنیوا/دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

شام کے جنوبی صوبہ درعا میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے قافلے کے نزدیک ایک زوردار دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ شامی محافظ زخمی ہو گئے ہیں۔

شامی حکومت کے حامی ایک نیوز چینل نے اس دھماکے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ رابرٹ موڈ کی گاڑی بھی واقعے کے وقت قافلے میں موجود تھی۔تاہم دھماکے سے وہ یا ان کا کوئی اور ساتھی زخمی نہیں ہوئے۔ البتہ ان کی کاروں کو نقصان پہنچا ہے۔

درایں اثناء شامی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع قصبے الدوما میں باغیوں کے ایک ٹھکانے پر گولہ باری کی ہے اور دوسرے شہروں میں تشدد کے واقعات میں دو فوجیوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دمشق سے تیرہ کلومیٹر دور واقع قصبے الدوما کے مکینوں نے بتایا ہے کہ بدھ کی صبح سے شدید گولہ باری اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

ادھر مشرقی صوبے دیر الزور کے دو دیہات السفیرہ اور الحسن میں سکیورٹی فورسز نے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ العربیہ ٹی وی کی اطلاع کے مطابق منگل کو شام کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں تئیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کوفی عنان کا دورۂ دمشق

درایں اثناء اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے ترجمان احمد فوزی نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر عنان جلد شام کا دورہ کریں گے اور شامی صدر بشار الاسد سے اپنے چھے نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کے لیے بات چیت کریں گے۔

کوفی عنان نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام کی صورت حال سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ شام کا دورہ کریں گے۔تاہم ان کے دورے کی تاریخوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا اور ان کے ترجمان احمد فوزی کا کہنا ہے کہ یہ یقینی طور پر آیندہ دنوں میں نہیں ہو گا بلکہ اس میں ہفتے لگ سکتے ہیں اور اس حوالے سے ہمیں شام کی جانب سے جواب کا انتظار کرنا پڑے گا۔

قبل ازیں کوفی عنان نے شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا خصوصی ایلچی منتخب ہونے کے بعد نو اور دس مارچ کو دمشق کا دورہ کیا تھا اور صدر بشار الاسد سے ملاقات کے بعد شام میں قیام امن کے لیے اپنا چھے نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے گذشتہ روز جنیوا سے ویڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام کی موجودہ صورت حال سے متعلق آگاہ کیا تھا۔انھوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ''ان کا چھے نکاتی امن منصوبہ کسی قسم کی حدود وقیود سے آزاد نہیں ہے بلکہ شام میں خانہ جنگی سے بچنے کا آخری موقع ہے اور قیام امن کی کوشش شامی صدر بشار الاسد کے لیے کوئی کھلا موقع نہیں ہے''۔

اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شام میں حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی جانب سے تشدد اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے شام کے مختلف شہروں میں حالیہ بم دھماکوں کو بہت ہی تشویشناک قرار دیا۔

انھوں نے دمشق حکومت اور باغیوں دونوں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کریں۔انھوں نے کہا کہ شام مکمل خانہ جنگی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے بہت ہی خوفناک مضمرات ہوں گے۔ ان کے بہ قول ہمیں خانہ جنگی کو رونما ہونے سے روکنا ہو گا۔

ادھر نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر سوسان رائس کا کہنا تھا کہ ''شامی حکومت نے کوفی عنان کے امن منصوبے کے چھے نکات میں سے کسی ایک نکتے پر بھی عمل درآمد نہیں کیا''۔ انھوں نے امریکا کی جانب سے شامی حزب اختلاف کے لیے غیر مہلک امدادی سامان کی فراہمی میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔