سوڈان کے جنگی طیاروں کی جنوبی سوڈان کے شہری علاقوں پر بمباری
اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام
سوڈان کے جنگی طیاروں نے جنوبی سوڈان کے بعض علاقوں پر بمباری کی ہے جبکہ جنوبی سوڈان کی فوج نے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔
جنوبی سوڈان کی فوج کے ترجمان کیلا کوئتھ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ''جمہوریہ سوڈان کے طیاروں نے تین ریاستوں اَپرنیل ،یونٹی اور مغربی بحرالغزال میں سوموار اور منگل کو شہری علاقوں پر بمباری کی تھی''۔ترجمان کے بہ قول جیٹ اور انتونوف جنگی طیاروں نے فضائی حملے کیے تھے۔
فوری طور پر آزاد ذرائع سے جنوبی سوڈان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ سوڈان ماضی میں متعدد مرتبہ جنوبی سوڈان پر بمباری کی تردید کرچکا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ جمعہ کو سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان سرحدی علاقوں میں محدود پیمانے پر جاری جنگ کے خاتمے کے لیے قرارداد منظور کی تھی اوراس میں دونوں ممالک پر زوردیا تھا کہ وہ کشیدگی کو ہوا دینے والے اقدامات سے گریز کریں۔
قرارداد میں جنوبی سوڈان کی فوج سے کہا گیا تھا کہ وہ سرحدی علاقے سے دس کلومیٹر تک پیچھے ہَٹ جائے جس کے بعد جنوبی سوڈان کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے تحت اپنے دستوں کو سرحدی علاقے سے دس کلومیٹر تک پیچھے ہٹا لیا ہے۔
اس قرارداد میں دونوں ممالک کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انھوں نے اس میں دی گئی شرائط پر عمل درآمد نہ کیا تو ان پر اضافی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان مارچ سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔ تب جنوبی سوڈان کی فوج نے سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوڈان کے تیل کی دولت سے مالا مال علاقے ہجلیج پر قبضہ کرلیا تھا۔
جنوبی سوڈان کے صدر سلفا کیر نے گذشتہ ماہ ہجليج سے فوج کو واپس بلا لیا تھا، جبکہ سوڈانی وزیردفاع عبدالرحیم محمد حسین اعلان فتح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فوج نے جنوبی سوڈانی کی فوج سے ہجليج کو خالی کرالیا ہے۔ جنوبی سوڈان کی فوج نے دس روز تک سوڈان کے اس علاقے پر قبضہ کیے رکھا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اور دوسرے لیڈروں نے جنوبی سوڈان کی فوج کے ہجليج پر قبضے کی مذمت کی تھی اور اسے ایک غیرقانونی کارروائی قراردیا تھا لیکن جنوبی سوڈان کے صدر نے اپنے بیان میں اس کو اپنے ملک کا حصہ قراردیا اور کہا کہ ہجليج (مقامی زبان میں پانتھو) کی حتمی حیثیت کے بارے میں بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے فیصلہ کرایا جائے گا۔