ترکی نے عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کو ملک بدر کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان پرعراق میں ڈیتھ اسکواڈ کی سرپرستی کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔
ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ نے نائب وزیراعظم بکیر بوزدیغ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہم ایسے کسی شخص کو ملک بدر نہیں کریں گے، جس کی ہم بالکل آغاز سے حمایت کررہے ہیں''۔انھوں نے کہا کہ طارق الہاشمی اس وقت صحت کی وجوہ کی بنا پر ترکی میں مقیم ہیں۔
ان کا یہ بیان بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول کی جانب سے عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کے خلاف دہشت گردی کے حملوں میں معاونت کے الزام میں ریڈ نوٹس کے اجراء کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔فرانس میں قائم ایجنسی نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''طارق الہاشمی کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے ایجنسی کے ارکان تمام ایک سو نوے ممالک کو خبردار کردیا گیا ہے''۔
طارق ہاشمی 9اپریل سے ترکی میں مقیم ہیں۔انھوں نے منگل کو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ وہ قانون سےبالا تر نہیں ہیں۔اگر انھیں سکیورٹی مہیا کی جائے اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جائے تو وہ بغداد میں عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں۔
طارق ہاشمی اور ان کے محافظوں پر چھے ججوں اور دوسرے سنئیر حکام کے قتل سمیت سنگین نوعیت کے ایک سو پچاس الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ عراق کے نائب صدر کے خلاف بغداد کی ایک عدالت میں جمعرات سے ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ان کے وکیل نے گذشتہ سماعت کے موقع پر ان کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد جج نے مقدمے کی سماعت دس مئی تک ملتوی کردی تھی۔
ترک نائب وزیراعظم بوزدیغ نے کہا کہ ''یہ بات یقیناً اہم ہے کہ طارق الہاشمی کا نام انٹرپول کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے لیکن عراقی حکومت سے ہمارے بھی کچھ مطالبات ہیں۔عراق میں دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے حامی موجود ہیں، وہ ترکی کو مطلوب ہیں لیکن ہمیں ابھی تک عراقی حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے''۔
وہ شمالی عراق میں چھپے ہوئے کردستان ورکرز پارٹی( پی کے کے) کے باغیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ ترکی ایک عرصے سے عراق سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ پی کے کے کے جنگجوؤں کو اپنا علاقہ استعمال کرنے کی اجازت نہ دے، ان کے کیمپوں کو بند کرے اور ان کے لیڈروں کو ترکی کے حوالے کرے۔یادرہے کہ کرد باغی 1984ء سے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں آزاد ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کررہے ہیں جس کے دوران اب تک پینتالیس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔