دولت شہنشاہوں کے لیے دنیا کے کسی بھی مقام پر جائیداد کی خریداری کے دروازے ہمیشہ دروازے کھولے رکھتی ہے۔ اس کی تازہ مثالیں عرب ممالک کے حکمران خاندانوں میں بکثرت ملتی ہیں۔
دیگر عرب حکمرانوں کی طرح خلیجی ریاست قطر کی اعلیٰ شخصیات بھی اس باب میں پیچھے نہیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل قطر کی ایک اہم سرکاری شخصیت نے لندن کے مہنگے ترین علاقے میں "ہاروڈز" محلات کی خریداری کی جس کی خبریں ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کا موضوع رہیں۔ ان محلات کی خریداری پر ایک سو ملین ڈالرز رقم ادا کی گئی تھی۔
انہی خبروں کی بازگشت میں ایک تازہ خبر یہ بھی ہے کہ قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ الشیخ حمد بن جاسم نے امریکی شہر نیویارک کے پوش علاقے میں ایک پلازے میں دو رہائشی فلیٹس کی خریداری کی کوشش کی تھی، لیکن ان کی یہ کوشش ان فلٹیس کے پڑوسیوں نے یہ کہہ کر ناکام بنا دی کہ شیخ جاسم "کثیر العیال" ہیں۔ ممکنہ طور پر وہ ان فلیٹس میں رہائش بھی اختیار کریں گے۔ ایسے میں ان کا بڑا خاندان ہمسائیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو جب قطری وزیر اعظم کی اس ناکام کوشش کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی ایک ماہ قبل شیخ حمد بن جاسم نے نیویارک کے ایک ہی پلازے میں فلیٹس خریدنے اور انہیں گرا کر ایک مکان بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
اس پر پلازے کی انتظامیہ تو راضی ہو گئی تاہم اس مکان کے آس پاس کے امریکی مکینوں نے اس کی مخالفت کی۔ وجہ یہ بتائی کہ شیخ جاسم کثیر العیال ہیں، جس کے باعث ان کا یہاں رہائش اختیار کرنا یہاں کے لوگوں کے سکون کو برباد کرنے کے مترادف ہو گا۔ خیال رہے کی شیخ جاسم کے پندرہ بچے بچیاں ہیں۔
بارہ منزلہ یہ پلازہ شاہراہ مین ہٹن پر واقع ایک تاریخی عمارت قرار دی جاتی ہے۔ اس میں بیشتر مکین امریکی ہیں، جو خود بھی امراء کےطبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق قطری وزیر اعظم کی نیویارک میں مکانات کی خریداری میں ناکامی کی ایک اور وجہ بھی سامنے آئی ہے۔ وہ یہ کہ چونکہ شیخ جاسم ایک اہم حکومتی شخصیت ہیں، وہ جہاں رہائش اختیار کریں گے، وہاں آئین کے مطابق انہیں ہر قسم کا سفارتی تحفظ بھی حاصل ہونا چاہیے۔
کل کو جب وہ اس جگہ اقامت اختیار کریں گے تو لامحالہ انہیں ہر قسم کا پروٹوکول بھی فراہم کیا جائے گا۔ یہ پروٹوکول آس پاس کے لوگوں کے لیے وبال جان بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بھی آس پاس کے لوگ شیخ جاسم کو اپنا پڑوسی بنانے پر آمادہ نہیں ہیں۔
شیخ حمد بن جاسم نے مکانات کی خریداری کے لیے کمپنی کے ساتھ سودا کرتے ہوئے اس کے لیے پانچ کروڑ پندرہ لاکھ ڈالرز کی رقم کی ادائیگی کا معاہدہ کیا تھا۔ گویا انہوں نے 604 مربع میٹر کے ان فلیٹس کے بدلے ایک مربع میٹرکے لیے اکیاون ہزار ڈالرز ادا کرنا تھے۔
ان ایک فلیٹ میں پانچ بیڈ رومز، پانچ بڑے حمام، دو ہال ایک ڈرائنگ روم، دو باورچی خانے اور کئی دیگر سہولیات سے آراستہ ہے۔ جبکہ دوسرا فلیٹ نسبتا چھوٹا ہے جس میں دو بیڈ روم اوراس کے ساتھ دیگر ضروری کمرے اور باورچی خانہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس فلیٹ کی قیمت ساڑھے سات ملین ڈالرز مقرر کی گئی تھی۔
ایک سال قبل تک یہ دونوں فلیٹس ایک بڑھیا موگیٹ کلارک کی ملکیت میں تھے۔ گذشتہ برس وہ 104 سال کی عمر میں وفات پا گئی تھیں تاہم وہ اپنی زندگی میں بھی ایک متنازعہ خاتون سمجھی جاتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک اس کی جائیداد کا اصل مالک پردہ راز میں ہے۔