منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: بدھ 18 جمادى الثانية 1433هـ - 09 مئی 2012م KSA 20:15 - GMT 17:15

برطانوی وزیرداخلہ کا یورپی عدالت کے فیصلے پر اظہار اطمینان

ابو قتادہ کی یورپی عدالت میں دائر اپیل خارج،اردن بدری کی راہ ہموار

بدھ 18 جمادى الثانية 1433هـ - 09 مئی 2012م
ابو قتادہ کو ماضی میں یورپ میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا دست راست  قراردیا گیا تھا۔فائل
ابو قتادہ کو ماضی میں یورپ میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا دست راست قراردیا گیا تھا۔فائل
لندن۔العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

اردن کے سخت گیر عالم دین ابو قتادہ کی برطانیہ بدری کے خلاف یورپ کی انسانی حقوق کی اعلیٰ عدالت میں دائر اپیل مسترد کردی گئی ہے۔

ابوقتادہ نے اپنی برطانیہ بدری کے فیصلے کے خلاف یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں اپیل دائر کی تھی اوریہ استدعا کی تھی کہ ان کی اپیل کی سماعت عدالت کا گرینڈ چیمبر کرے۔ بدھ کو پانچ ججوں پر مشتمل اس چیمبر نے ان کی اپیل کی سماعت کے بعد اس کو مسترد کردیا ہے۔اس فیصلے کے بعد اکاون سالہ ابوقتادہ کی برطانیہ بدری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

البتہ پانچ ججوں نے یہ قراردیا ہے کہ ابو قتادہ نے بروقت اپیل دائر کی تھی اور ان کے اس فیصلہ کے بعد برطانوی وزیرداخلہ تھریسامے کا یہ موقف غلط ثابت ہوگیا ہے کہ عدالت کے سترہ جنوری کے فیصلے کے خلاف اپیل کی ڈیڈلائن سولہ اپریل کی رات ختم ہوگئی تھی۔

ابو قتادہ کے وکلاء نے سترہ اپریل کی رات اپیل دائر کی تھی اور ججوں نے یہ قراردیا ہے کہ اپیل بروقت دائر کی گئی تھی۔عدالت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ''پینل کے نزدیک فیصلے کے خلاف اپیل تین ماہ کے وقت کے اندر ہی دائر کی گئی تھی تاہم اس کا موقف ہے کہ اس درخواست کو مسترد کردیا جانا چاہیے''۔

اب ابو قتادہ کے وکلاء کی جانب سے ان کی برطانیہ بدری کے احکامات کی منسوخی کے لیے اپیل کو وزیرداخلہ تھریسامے بھی مسترد کرسکیں گی جس کے بعد انھیں آیندہ چند ہفتوں ہی میں اردن واپس بھیج دیا جائے گا۔

تھریسامے نے یورپی عدالت کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''میں اس فیصلہ سے مطمئن ہوں۔اب ابو قتادہ کیس برطانوی عدالتوں ہی میں سماعت کیا جائے گا۔ہمیں اردن کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں کے بعد مجھے اعتماد ہے کہ ابو قتادہ کو اب ہم طیارے کے ذریعے برطانیہ بدر کر سکتے ہیں''۔

واضح رہے کہ برطانیہ گذشتہ چھے سال سے اکاون سالہ عالم دین کو اردن بدر کرنے کی کوشش کررہا ہے اور انھیں اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قراردے چکا ہے لیکن برطانیہ کی یہ کوشش ہر مرتبہ انسانی حقوق کی بنیاد پر ناکام رہتی ہے۔ ابو قتادہ کو ایک ہسپانوی جج نے ماضی میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا ایک سنئیر مشیر اور یورپ میں دست راست قراردیا تھا۔

اسٹراسبرگ میں قائم یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے جنوری میں اپنے ایک حکم میں قراردیا تھا کہ برطانیہ ابو قتادہ کو اردن کے حوالے نہیں کرسکتا کیونکہ وہاں ان کے خلاف کسی بھی ٹرائل میں استعمال کیے گئے شواہد تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے ہوں گے۔

اردن کی ایک عدالت نے ابوقتادہ کو ان کی ملک میں عدم موجودگی میں 1998ء میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قصوروار قراردیا تھا۔اب اگر انھیں اردن واپس بھیجا جاتا ہے توان کے خلاف وہاں یہ مقدمہ دوبارہ چلایا جائے گا۔ اردن کی حکومت یہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ اگر برطانیہ ابو قتادہ کو ملک بدر کرکے اس کے حوالے کرتا ہے تو ان کے خلاف منصفانہ اور شفاف انداز میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

برطانیہ میں انھیں کچھ عرصہ قبل ضمانت کی سخت شرائط کے تحت رہا کردیا گیا تھا اور عدالت میں ان کے وکیل نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی حراست غیرقانونی ہے لیکن بعد میں برطانیہ کے سرحدی حکام نے راسخ العقیدہ عالم دین کو دوبارہ گرفتار کرلیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ انھیں ان کے آبائی وطن اردن بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے اس سال کے اوائل میں اردن کا دورہ کیا تھا جس میں انھوں نے اردنی حکام سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کے خلاف تشدد سے حاصل کیے گَئے شواہد کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔