منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م KSA 03:18 - GMT 00:18

شاؤل موفاز پر موقع پرست سیاست دان ہونے کا الزام

اسرائیل:پارلیمان نے لیکوڈ، کادیما مخلوط حکومت کی منظوری دے دی

جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م
شاؤل موفاز(دائیں) مخلوط حکومت میں نائب وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں  گے۔
شاؤل موفاز(دائیں) مخلوط حکومت میں نائب وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔
مقبوضہ بیت المقدس۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

اسرائیلی پارلیمان (الکنیست) نے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی اور شاؤل موفاز کی قیادت میں کادیما پارٹی کے درمیان مخلوط حکومت کے قیام کے لیے طے پائے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

نئی مخلوط حکومت کو الکنیست کے ایک سوبیس میں سے چورانوے ارکان کی حمایت حاصل ہوگی اور اسرائیلی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکومت کو اتنے زیادہ ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل ہو گی۔بدھ کو پارلیمان سے منظوری کے فوری بعد کادیما کے لیڈرشاؤل موفاز نے وزیربے محکمہ کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ الکنیست کے اکہتر ارکان نے ان کے تقرر کے منظوری دی جبکہ تئیس نے ان کے خلاف ووٹ ڈالا۔

اسرائیلی پارلیمان میں مخلوط حکومت کے قیام کے لیے معاہدے پر رائے شماری سے قبل ارکان کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا تھا اور حزب اختلاف کے بہت سے ارکان نے شاؤل موفاز کو حکومت میں شمولیت پر موقع پرست قراردیا اور کہا کہ انھوں نے بھونڈی سیاست کی ہے۔

معاہدے کے تحت کادیما اور دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی ایک نئے قانون کی منظوری دیں گی جس کے تحت کٹڑ یہودیوں کو لازمی فوجی تربیت سے مستثنیٰ قراردے دیا جائے گا اور اس قانون کے تحت فوجی ملازمت کی منصفانہ حصے داری کو یقینی بنایا جائے گا۔

شاؤل موفاز نائب وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ مسٹر نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے بھی رکن ہوں گے۔اس کے علاوہ کادیما کو دفاع اور خارجہ امور سمیت چار طاقتور پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی بھی سونپی جائے گی۔ معاہدے میں فلسطینیوں کے ساتھ امن عمل کی بحالی کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔

انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حزب مخالف کادیما پارٹی کے درمیان ایک وسیع البنیاد مخلوط حکومت کے قیام کے لیے منگل کو اچانک معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد صہیونی پارلیمان نے قبل ازوقت انتخابات کے لیے قرارداد پر رائے شماری بھی موخر کردی تھی۔

نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے چار ستمبر کو قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد الکنیست کی تہلیل کے بارے میں بحث ومباحثہ شروع ہوگیا تھا لیکن لیکوڈ اور کادیما پارٹی نے خفیہ مذاکرات کے بعد اچانک وسیع البنیاد مخلوط حکومت کی تشکیل کا اعلان کردیا اور اب اکتوبر دوہزار تیرہ سے قبل اسرائیلی پارلیمان کی تہلیل کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ کادیما کی الکنیست میں اٹھائیس نشستیں ہیں اور اس کی جانب سے نیتن یاہو کی حکومت کی حمایت کے بعد وہ سن دوہزار تیرہ کے آخر یعنی اپنی آئینی مدت پوری ہونے تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں گے۔ان کی حکومت میں کٹڑ اور انتہا پسند یہود کی جماعتیں شامل ہیں جو کٹڑ یہودیوں کے لیے لازمی فوجی تربیت کی مخالفت کررہی ہیں اور انھیں اس سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

شاؤل موفاز ماضی قریب میں نیتن یاہو کے سخت ناقد رہے ہیں اور وہ انھیں جھوٹا اور اسرائیل کی تاریخ کا بدترین وزیراعظم قراردے چکے ہیں لیکن اب وہ خود ہی ان کی حکومت کے تحت عہدہ قبول کرنے کو تیار ہوگئے ہیں۔

مارچ میں کادیماپارٹی کی صدارت سنبھالنے سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ''ان کی قیادت میں ان کی جماعت نیتن یاہو کی بُری ،ناکام اور غیر ذمے دار حکومت میں شامل نہیں ہوگی بلکہ وہ آیندہ انتخابات میں نیتن یاہو کی جگہ لے گی'' لیکن اب وہ اس میں شامل ہوگئے ہیں جس کے بعد اسرائیل میں ایک حقیقی حزب اختلاف کا وجود ختم ہو کر رہ گیا ہے۔