منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م KSA 06:12 - GMT 03:12

مطالعاتی دورہ ہے: میڈیا، تعلقات کی بحالی کی کوشش ہے: اپوزیشن

مصر کے ساٹھ رکنی اعلیٰ سطح وفد کے دورہ ایران بارے متضاد آراء

جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م
دبئی ۔ سعود الزاھد

مصر کا ایک ساٹھ رکنی وفد کل بدھ کو ایران پہنچا ہے۔ وفد میں کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ فی الحال اس وفد کے دورے کے اہداف ومقاصد اور اس کی غرض غایت کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں، محض قیاس آرائیاں اور متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔

ایران کا سرکاری میڈیا اس دورے کو محض "مطالعاتی" اور علمی دورہ قرار دے رہا ہے جبکہ ایرانی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ دورہ تہران اور قاہرہ کے درمیان ایک طے شدہ پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت سنہ 1979ء کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے سفارتی تعطل کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی" مہر" نے مصر کے اس "گرینڈ وفد" کی تہران آمد کو خوب کوریج دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں سنہ 1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں برپا ہونے والے شیعہ ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد یہ مصر کا سب سے بڑا وفد ہے۔ تاہم اس کا مقصد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی نہیں البتہ یہ ایک علمی اور مطالعاتی "ٹور" ہے۔

ادھر ایران میں عرب بہاریہ سے معاملات کرنے کے لیے بنائی گئی "عظمت اسلام موومنٹ" نے بھی مصری وفد کے دورے کو محض" مطالعاتی" "ٹور" قرار دیا ہے۔ تا ہم موومنٹ کا کہنا ہے کہ مصری وفد اپنے اس "غیر سرکاری" دورے کے دوران بھی سپریم لیڈر رہ بر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی سے ملاقات کرے گا۔

ایرانی اپوزیشن حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مصر سے آئے مہمان وفد کو سرکاری پروٹوکول دیا جائے گا۔ اس وفد کی آمد کا مقصد کئی سال سے دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنا ہے۔ وہ اسی سلسلے میں ایرانی سپریم لیڈر کے معاون خصوصی سے بھی ملاقات کرے گا۔

ایران میں سوشلسٹ پارٹی کے"تودہ" کے قریب سمجھی جانے والی ویب سائٹ" بیک ڈاٹ نیٹ" نے ذرائع کےحوالے سےخبر دی ہے کہ ایران پہنچنے والے مصری وفد کی آمد کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کا دروازہ کھولنے کےلیے مذاکرات کرنا ہے۔

مصر ۔ ایران تعلقات کا اتار چڑھاؤ

مصر اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات میں اتارو چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی کوششیں خلافت عثمانیہ کے دور سے شروع ہوئی تھیں تاہم باضابطہ طورپر پہلے سفارتی تعلقات سنہ 1928ء کوایک معاہدے کے بعد قائم ہوئے، جسے"ارضروم" معاہدے کا نام دیا گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات اس وقت اور بھی زیادہ مضبوط ہوگئے جب ایران کے سابق بادشاہ محمد رضاہ شاہ پہلوی نے مصر کے شاہ فاروق کی ہمیشرہ شہزادی فوزیہ کے ساتھ شادی کر لی۔

رضا شاہ پہلوی کےدورکے اختتام تک تہران اور قاہرہ کے درمیان مثالی تعلقات رہے، یہاں تک کہ مصر میں سنہ 1952ء میں سابق صدرجمال عبدالناصرکے سربراہی میں ایک فوجی انقلاب برپا ہوا۔ جمال عبدالناصر نے شاہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا "سپاہی" قرار دیا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات خراب ہوگئے۔ سابق صدر انور سادات نے مصرکے ساتھ تعلقات دوبارہ بحال کیے جو سنہ 1979ء تک رہے۔

انیس سو اناسی میں ایران میں انقلاب نے دونوں ملکوں کو پھر سے ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ اس کی ایک وجہ مصری حکومت کی جانب سے ایران کے مفرور بادشادہ رضا شاہ پہلوی کو پناہ دینا بتائی جاتی ہے، کیونکہ امریکا کی طرف سے اپنے سابق حلیف کو پناہ نہ دینے پرمصرنے ان کے استقبال کی حامی بھرلی تھی۔ جبکہ ایران کی ناراضگی کی ایک وجہ قاہرہ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام میں بھی بتائی جاتی ہے۔

سنہ 1981ء کو سابق صدر انورسادات کے قتل کے بعد ایران نے ان کے مبینہ قاتل خالد اسلام بولی کو خراج تحسین پی پیش کرنے کے لیے تہران کی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کردیا تھا۔ قاہرہ حکومت کئی مرتبہ ایران سے سڑک کو انور سادات کے قاتل کے نام سے منسوب کرنےکا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے تاہم ایران نے یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔