اسرائیل میں شدت پسند یہودی مذہبی تنظمیں فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف کسی نہ کسی شکل میں شرمناک نوعیت کی پروپیگنڈہ مہم جاری رکھتی ہیں۔ ان دنوں بیت المقدس میں شدت پسند تنظیم" لھافا" نے ایک تازہ مہم شروع کی ہے جس میں یہودی والدین کو اپنے بیٹیوں کی عربوں کے ساتھ شادیوں کے "سنگین نتائج" کی آگاہی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کے کثیر الاشاعت عبرانی اخبار"یدیعوت احرونوت" کی ویب سائٹ "وائی نیٹ" پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند تنظیم " لھافا" نے بیت المقدس کی شاہراؤں پر ایک پوسٹر بڑی تعداد میں چسپاں کرنا شروع کیا ہے۔ اشتہار میں ایک میشال نامی یہودی لڑکی کی محمد نامی ایک عرب شہری کے ساتھ محبت اور بعد ازاں شادی کی جعلی کہانی شائع کرتے ہوئے یہودی والدین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے بارے میں اتنے بے فکرنہ رہیں، کہ مبادیٰ ان کی بیٹی بھی کسی عرب کی محبت میں گرفتارہوکر اس کے ساتھ شادی نہ کرلے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہودی شدت پسند گروپ"لھافا" سخت گیر یہودی تعلیمات کا قائل ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عربوں اور یہودیوں کے مخلوط انداز میں چلنے پھرنے کا بھی مخالف ہے۔ اسرائیل کے سیکولر حلقوں کی جانب سے "لھافا" کے تازہ اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے"نسل پرستی" کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی ایک سیکولر تنظیم کے ترجمان کے مطابق "لہافا" کا اشتہار مُہذب اسرائیلی قوم کی توہین ہے"۔
بیت المقدس میں لگائے گئے اس اشتہارمیں ایک یہودی لڑکی میشال اور مسلمان شہری محمد کے ساتھ شادی کا کارڈ بھی شائع کیا گیا ہے۔ اس فرضی کارڈ کے بعد یہودی والدین سے کہا گیا ہے کہ"متوجہ رہیے! آپ کی بیٹی بھی کل کو کسی دوسرے "محمد" (فلسطینی عرب) کے ساتھ شادی کر سکتی ہے۔ نیز جو یہودی والدین اپنی بچیوں کو عربوں کے ساتھ شادیوں سےمنع نہیں کرتے وہ غیر یہودیوں کے خادم تصور کیے جائیں گے"۔