منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م KSA 06:21 - GMT 03:21

قرضاوی مہمان نہیں، تیونس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں

تیونس میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی "دہشت گرد" قرار دے کر مقدمہ قائم

جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م
العربیہ ڈاٹ نیٹ

تیونس کے ایک وکیل، پیرس میں رابطہ عالم اسلامی کے رکن اور طرابلس میں دعوت اسلامی کے کے مشیر نے قطر کے مفتی اعظم اور معروف دینی اسکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی کو "دہشت گرد" قرار دے کر ان کے خلاف تیونس کی ایک عدالت میں مقدمہ قائم کیا ہے۔

منگل کے روز شیخ القرضاوی کےخلاف دی گئی درخواست میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اقوام کے درمیان دہشت گردی اور فتنہ و فساد کی ترغیب دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں دائر کیا گیا ہے جب حال ہی میں ڈاکٹر القرضاوی تیونس کے اپنے چھے روزہ دورے کے بعد واپس لوٹے ہیں۔

تیونس کے اخبار"الشروق" سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر القرضاوی کے خلاف درخواست گذار وکیل محمد بکار نے کہا کہ "انہوں نے شیخ القرضاوی کے خلاف مقدمہ تیونس کے ایک شہری کے طور پر دائر کرایا ہے۔ نیز وہ ایک قانون دان ہیں۔ بہ قول ان کے شیخ یوسف القرضاوی کی تیونس آمد "ایک سازش" تھی اور وہ تیونس کی سلامتی اور خود مختاری کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر بکار نے کہا کہ ان کے پاس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہونے کے بارے میں دلائل اور شواہد کے انبار ہیں۔ یہ وہی شخص ہیں جس نے لیبیا میں باغیوں کو مسلح کرنے میں مدد دی اور ہزاروں افراد کے قتل میں ملوث ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ برس اگست اور ستمبر میں ساحلی راستے سے شیخ القرضاوی فرانس اور قطر کی کوششوں سے تیونس میں داخل ہوئے تھے۔ محمد بکار کا کہنا تھا کہ عدالت میں دائر مقدمہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی تیونس کےخلاف جاری ابلاغی مہم جوئی کے تمام راز فاش کر دے گا۔ اس مقدمہ سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا کہ عرب ممالک میں انقلابی تحریکوں کو کون ہوا دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ یوسف القرضاوی دین کے نام پر سیاست چمکا رہے ہیں اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ تعمیر نہیں بلکہ تخریب کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ درخواست گذار نے عالمی فوجداری عدالت کے معاہدہ نمبر پندرہ کا بھی حوالہ دیا ہے تیونس بھی اس معاہدہ کا پابند ہے۔ اس معاہدےکے تحت تیونس مدعا علیہ کو دہشت گردی کے شبے میں حراست میں لینے یا اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرانے کا حق رکھتا ہے۔