منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م KSA 16:18 - GMT 13:18

نوجوان طبقے کی انتخابی عمل سے عدم دلچسپی

الجزائر:پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ

جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م
الجزائر۔العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

الجزائر میں حالیہ عرب بہاریہ تحریکوں کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات کے لیے آج جمعرات کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں جبکہ حزب اختلاف کے بڑے گروپوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کررکھا ہے اور یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ان میں ووٹ ڈالنے کی شرح بیس سے تیس فی صد تک رہنے کا امکان ہے۔

پارلیمان کی چار سو باسٹھ نشستوں کے لیے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ سمیت چوالیس جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اور ان میں سے اکیس حال ہی میں قائم کی گئی ہیں۔الجزائر کے دوکروڑ دس لاکھ شہری ووٹ دینے کے اہل ہیں لیکن ان میں سے اکثریت کسی بھی امیدوار کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور ان کا کہنا ہے کہ ان سے ماضی میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے اوروہ حکومت کی جانب سے اصلاحات کے وعدوں پر بھی کوئی یقین نہیں رکھتے۔

نیشنل لبریشن فرنٹ کی تہلیل شدہ اسمبلی میں ایک سو چھتیس نشستیں تھیں اور اس نے وزیراعظم احمد یحیٰی کی جماعت قومی ریلی برائے جمہوریت اور اسلامی جماعت تحریک برائے امن کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی تھی۔

واضح رہے کہ الجزائرکی کل تین کروڑ ستر لاکھ میں سے ایک تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان میں سے دس فی صد بے روزگار ہیں لیکن آزاد ذرائع کے مطابق بے روز گاری کی شرح بیس فی صد تک ہے۔یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت انتخابی عمل سے لاتعلق رہی ہے اور وہ حکمران طبقے کے وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

الجزائر میں ان انتخابات کے لیے نوجوانوں کے علاوہ عوام میں بھی کوئی خاص جوش و خروش نظر نہیں آتا تھا اوران میں دوہزار سات کے مقابلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہنے کا امکان ہے۔مبصرین کے بہ قول ووٹ ڈالنے کی شرح بیس سے تیس فی صد تک رہے گی۔تجزیہ کاروں کے بہ قول پارلیمانی انتخابات جمہوریت کے نام پر ایک دھبہ ہیں اور ان سے کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔