منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 20 جمادى الثانية 1433هـ - 11 مئی 2012م KSA 10:39 - GMT 07:39

جنوبی سوڈان کے ساتھ تیل اور تجارت پر بات نہیں ہو گی

اقوام متحدہ یا افریقی یونین سوڈان پر مرضی مسلط نہیں کر سکتے: عمر البشیر

جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م
خرطوم ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

سوڈان کے صدر عمر البشیر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ یا افریقی یونین ان کے ملک پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتے ہیں۔جب تک جنوبی سوڈان کے ساتھ سکیورٹی سے متعلق تنازعات طے نہیں پا جاتے، اس وقت تک اس کے ساتھ تیل، تجارت یا شہریت پر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

سوڈانی صدر نے یہ بات تیل کی دولت سے مالا علاقے ہجلیج میں کان کنی اور تیل کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سوڈانی صدر نے کہا کہ ''ہم جو چاہتے ہیں،اس کا ہی نفاذ کریں گے اور جونہیں چاہتے وہ نہیں کریں گے لیکن کوئی بھی ہم پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا افریقی یونین کی امن اور سلامتی کونسل دونوں میں سے کوئی بھی نہیں''۔

وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو مئی کی قرارداد کا حوالہ دے رہے تھے جس میں سوڈان اور جنوبی سوڈان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں پر تشدد آمیز کارروائیاں بند کر دیں اور اپنے تصفیہ طلب تنازعات بات چیت کے ذریعے طے کریں۔

عمر حسن البشیر نے واضح کیا کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی سے متعلق مسائل طے نہیں پاجاتے، اس وقت تک جنوبی سوڈان کےساتھ تیل، تجارت اور شہریت پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ ایبی یا کسی اور مسئلے پر بھی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد بدھ نو مئی سے نافذالعمل ہے اور اس میں سوڈان اور جنوبی سوڈان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو متنازعہ سرحدوں سے پیچھے ہٹا لیں لیکن خرطوم حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک سرحدی سمجھوتا نہیں طے پاجاتا،اس وقت تک وہ اس قرارداد پر عمل درآمد نہیں کرسکتی۔

سوڈانی صدر کے اس بیان سے ایک روز ان کے جنگی طیاروں نے جنوبی سوڈان کے بعض علاقوں پر بمباری کی تھی جبکہ جنوبی سوڈان کی فوج نے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قراردیا تھا۔جنوبی سوڈان کی فوج کے ترجمان کیلا کوئتھ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ''جمہوریہ سوڈان کے طیاروں نے تین ریاستوں اَپرنیل ،یونٹی اور مغربی بحرالغزال میں سوموار اور منگل کو شہری علاقوں پر بمباری کی تھی''۔ترجمان کے بہ قول جیٹ اور انتونوف جنگی طیاروں نے فضائی حملے کیے تھے۔

جنوبی سوڈان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی جبکہ سوڈان ماضی میں متعدد مرتبہ جنوبی سوڈان پر بمباری کی تردید کر چکا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ جمعہ کو سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان سرحدی علاقوں میں محدود پیمانے پر جاری جنگ کے خاتمے کے لیے قرارداد منظور کی تھی اوراس میں دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ کشیدگی کو ہوا دینے والے اقدامات سے گریز کریں۔

قرارداد میں جنوبی سوڈان کی فوج سے کہا گیا تھا کہ وہ سرحدی علاقے سے دس کلومیٹر تک پیچھے ہَٹ جائے جس کے بعد جنوبی سوڈان کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے تحت اپنے دستوں کو سرحدی علاقے سے دس کلومیٹر تک پیچھے ہٹا لیا ہے۔

قرارداد میں دونوں ممالک کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انھوں نے اس میں دی گئی شرائط پر عمل درآمد نہ کیا تو ان پر اضافی پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان مارچ سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔ تب جنوبی سوڈان کی فوج نے سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوڈان کے تیل کی دولت سے مالا مال علاقے ہجلیج پر قبضہ کرلیا تھا۔جنوبی سوڈان کی فوج نے دس روز تک سوڈان کے اس علاقے پر قبضہ کیے رکھا تھا اور اس کے بعد جنوبی سوڈان کے صدر سلفاکیر نے فوج کو واپس بلا لیا تھا۔