منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م KSA 21:03 - GMT 18:03

یمنی طیاروں کی القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری

یمن:امریکی ڈرون حملے،القاعدہ کے 17مشتبہ جنگجو ہلاک

جمعرات 19 جمادى الثانية 1433هـ - 10 مئی 2012م
صنعا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں

یمن کے جنوبی صوبے ابین میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملے اور یمنی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں القاعدہ کے سترہ مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی ڈرون نے جنوبی صوبہ ابین کے دارالحکومت زنجبار اورقصبے جعار میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر میزائل فائر کیے ہیں۔جعار کے ایک مکین نے بتایا ہے کہ ہم نے بدھ اور جمعرات کیی درمیانی شب تین دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔

اس شہری کے بہ قول جعار کے مغربی نواحی علاقے میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس حملے میں مارے گئے القاعدہ کے پانچ جنگجوؤں کے اعضاء ادھرادھربکھر گئے۔تاہم یمنی حکام نے امریکی ڈرون کے اس حملے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

امریکی ڈرون کے اس حملے میں القاعدہ کا الجلدی نامی ایک سرکردہ کمانڈر بھی مارا گیا ہے ۔اس کا تعلق پڑوسی صوبے مآرب سے تھا،یمنی حکام کے مطابق جمعرات کو اس کی تجہیز وتکفین میں اس کے خاندان کے افراد نے بھی شرکت کی ہے۔فوری طور پر باقی مہلوکین کی شناخت نہیں بتائی گئی۔

امریکی ڈرون سے دوسرا حملہ زنجبار کے شمال مشرق میں واقع علاقے شرقہ پر کیا گیا جہاں دوجنگجو مارے گئے ہیں۔یمنی حکام کے مطابق اس حملے میں لودرمیں القاعدہ کا سیکنڈ ان کمان بھی مارا گیا ہے۔

یمنی وزارت دفاع کی اطلاع کے مطابق فوج نے زنجبار کے نواح میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں اس تنظیم کے دس جنگجو مارے گئے ہیں۔

درایں اثناء یمن کے جنوبی علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائلی لیڈروں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں شہری بھی مارے جارہے ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگ حکومت اور امریکا کے خلاف ہورہے ہیں۔

یمن کے جنوبی صوبے البائدہ کے پہاڑی علاقے میں چند ہفتے قبل امریکی جنگی طیاروں نے القاعدہ کے مشتبہ جنگجوٶں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں ستائیس جنگجو ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ صوبہ ابین کے دارالحکومت زنجبار پر گذشتہ سال مئی سے القاعدہ سے وابستہ جنگجوٶں نے قبضہ کررکھا ہے اور ان کی تب سے یمنی فوج کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔انھوں نے لودر پر بھی قبضہ کرلیا تھا لیکن یمنی فوج اور مقامی قبائلیوں نے انھیں وہاں سے نکال باہر کیا تھااور اب وہ دوبارہ اس شہر پر قبضے کے لیے یمنی فوج سے لڑ رہے ہیں۔ یمن کے جنوبی صوبوں میں لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔