منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 21 جمادى الثانية 1433هـ - 12 مئی 2012م KSA 00:49 - GMT 21:49

462میں سے 189 نشستیں حاصل کرنے کا اعلان

الجزائر:صدر بوتفلیقہ کی جماعت کی پارلیمانی انتخابات میں برتری

جمعہ 20 جمادى الثانية 1433هـ - 11 مئی 2012م
الجزائر کے وزیر داخلہ انتخابات کے نتائج کا اعلان کر رہے ہیں
الجزائر کے وزیر داخلہ انتخابات کے نتائج کا اعلان کر رہے ہیں
الجزائر ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

الجزائر کی حکمران جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ (ایف این ایل) نے پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرلی ہیں۔

ایف این ایل کے لیڈر عبدالعزیز بالخادم نے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے حوالے سے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت نے پارلیمان(قومی اسمبلی) کی چار سو باسٹھ میں سے ایک سو نواسی نشستیں جیت لی ہیں۔

الجزائر میں حالیہ عرب بہاریہ تحریکوں کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات کے لیے جمعرات کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔الجزائر کے وزیرداخلہ ضحو ولد قبیلہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملک بھر میں ڈالے گئےووٹوں اور بیرون ملک مقیم الجزائریوں کے موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح مجموعی طور پر بیالیس اعشاریہ نو فی صد رہی ہے اور یہ دوہزار سات میں منعقدہ انتخابات سے سات فی صد زیادہ ہے۔تب ووٹ ڈالنے کی شرح پینتیس فی صد رہی تھی۔

پارلیمان کی چار سو باسٹھ نشستوں کے لیے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ سمیت چوالیس جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا اور ان میں سے اکیس حال ہی میں قائم کی گئی ہیں۔ نیشنل لبریشن فرنٹ کی تہلیل شدہ اسمبلی میں ایک سو چھتیس نشستیں تھیں اور اس نے وزیراعظم احمد یحیٰی کی جماعت قومی ریلی برائے جمہوریت اور اسلامی جماعت تحریک برائے امن کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی تھی۔

واضح رہے کہ الجزائرکی کل تین کروڑ ستر لاکھ میں سے ایک تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اوران نوجوانوں کی اکثریت انتخابی عمل سے لاتعلق رہی ہے اور وہ حکمران طبقے کے وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔الجزائر میں منعقدہ ان انتخابات کے لیے نوجوانوں کے علاوہ عوام میں بھی کوئی خاص جوش و خروش نظر نہیں آتا تھا۔اب مبصرین کا کہنا ہے کہ الجزائری حکام انتخابی نتاَئج میں ردوبدل میں مہارت رکھتے ہیں اور انھوں نے ووٹ ڈالنے کی شرح درست طور پر ظاہر نہیں کی۔

الجزائر کی سابقہ قومی اسمبلی نے کچھ عرصہ قبل ملک کی بڑی مذہبی جماعت اسلامک سالویشن فرنٹ (اسلامی محاذ آزادی) پر گذشتہ دوعشرے سے جاری پابندی برقرار رکھنے کی منظوری دی تھی جس کی وجہ وہ انتخابی عمل سے لاتعلق رہی ہے۔یادرہے کہ اسلامک سالویشن فرنٹ نے الجزائر میں 1991ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن الجزائری فوج نے اس جماعت کو اقتدار دینے کے بجائے مغربی طاقتوں کے ایماء پر الٹا اس پر پابندی عاید کردی تھی جو دوعشرے گزرجانے کے باوجود بھی برقرار ہے۔

الجزائری فوج نے 1992ء کے اوائل میں اسلامی سالویشن فرنٹ کی عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے کے لیے انتخابات کو منسوخ کردیا تھا جس کے بعد شمالی افریقہ کے تیل کی دولت سے مالامال اس ملک میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی جس کے دوران بیس ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

الجزائر میں 1990ء کے عشرے میں خانہ جنگی کے دوران عبدالعزیز بوتفلیقہ برسراقتدار آگئے تھے اور وہ 1999ءسے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں ۔وہ حالیہ عرب بہاریہ تحریکوں کے دوران اپنے اقتدار کو بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔74 سالہ عبدالعزیزبوتفلیقہ نے 2009ء میں تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے 2008ء میں ملکی آئین میں ترمیم کی تھی۔وہ 2009ء میں فراڈ اور دھاندلیوں کے الزامات کے سائے میں الجزائر کے تیسری مرتبہ پانچ سال کی مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے ۔