یورپی یونین نے شام میں صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کارروائیوں کے بعد مزید دو فرموں اور تین شخصیات پر پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی پابندیوں کا ایک نیا پیکج پرسوں پیر سے نافذ کیا جائے گا۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کےمطابق یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ستائیس رُکن ممالک کے سفیروں نے شامی صدر کےخلاف پابندیوں کی پانچویں قسط کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ یہ پابندیاں شامی حکومت کے خلاف اس لیے لگائی جا رہی ہیں کیونکہ صدر بشار الاسد اور ان کی حکومت ایک سال سے جاری عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران نہتے شہریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے اور ان کے جمہوری حقوق کی فراہمی میں سخت کوتاہی کی مرتکب ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی نئی قسط کی زد میں آنے والی شخصیات یورپی یونین کے کسی بھی رکن کا ملک کا سفر نہیں کر سکیں گی۔ سفیروں کے تیار کردہ پابندیوں کےمسودے کی باضابطہ منظوری پیر کو یورپی وزراء خارجہ کے برسلزمیں ہونے والے اجلاس میں دی جائے گی۔
خیال رہے کہ یورپی یونین نے اپریل میں شام کےخلاف اقتصادی پابندیوں کی چوتھی قسط میں صدر اسد اور ان کی اہلیہ کی یورپی ملکوں سے شاہانہ شاپنگ پر پابندی عائد کر دی تھی۔ گذشتہ ایک سال سے اب تک یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے شام کی 126 شخصیات اور 41 کمپنیوں پر پابندیاں عائدکی جا چکی ہیں۔ ان میں شام کا مرکزی بنک، مال بردار طیاروں کے کرائے پر حصول اور قیمتی معدنیات کی تجارت پر پابندیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یورپی یونین شامی تیل کی فروخت اور دمشق کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کی پابندیاں لگا چکی ہے تاہم انہیں مزید سخت کرنے پر غور ہو رہا ہے۔
ادھر شام کے مختلف شہروں میں نمازجمعہ کے بعد صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ اس دوران مقامی رابطہ کمیٹیوں کی اطلاع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیرہ مظاہرین ہلاک ہوگئے ہیں۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ سرکاری فوجیوں نے دارالحکومت دمشق کے علاقے تدامون میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق حکومت مخالفین نے شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب ،وسطی صوبہ حماہ اور مشرقی صوبہ دیرالزور میں مختلف شہروں اور قصبوں میں نمازجمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
حماہ کے قصبے حلفیہ میں سرکاری فوجیوں نے فائرنگ کرکے بیس مظاہرین کو زخمی کردیا جبکہ اسی قصبے میں ایک چھاپہ مار کارروائی میں دوشہری مارے گئے ہیں۔شمالی شہر حلب کے علاقے صلاح الدین میں بھی سرکاری فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے۔