منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 21 جمادى الثانية 1433هـ - 12 مئی 2012م KSA 00:42 - GMT 21:42

جمہوری طریقے سے معاشرے میں اسلامی اقدار کے نفاذ کا عزم

تیونس:پہلی سلفی سیاسی جماعت کے لیے لائسنس جاری

جمعہ 20 جمادى الثانية 1433هـ - 11 مئی 2012م
انقلاب کے بعد سلفیوں کی سیاسی سرگرمیوں کا علانیہ آغاز
انقلاب کے بعد سلفیوں کی سیاسی سرگرمیوں کا علانیہ آغاز
تیونس ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

تیونس میں اسلام پسندوں کی بالادستی کی حامل حکومت نے سلفیوں کی راسخ العقیدہ اسلام کی پرچارک جماعت کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے لائسنس جاری کر دیا ہے۔

تیونس کے ایک عہدے دار نے جمعہ کو ایک بیان میں سلفیوں کی جماعت اصلاح محاذ کو لائسنس جاری کرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جماعت آیندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہوگی۔

اصلاح محاذ کے سربراہ محمد خوجہ نے بھی برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے کہا کہ سلفی جمہوریت اور ریاست کی سول نوعیت کا احترام کرتے ہیں۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ ''بعض مذہبی لوگ ایسے بھی ہیں جن کا موقف ہے کہ سیاست گندی چیز ہے اور وہ مذہب سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی لیکن ہمارا ان سے یہ کہنا ہے کہ ان کا یہ موقف درست نہیں ،ہم ان سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ ہمارا یہ موقف ہے کہ اسلام آزادی اور جمہوریت کا دین ہے''۔

اصلاح محاذ کے لیڈر محمد خوجہ کا کہنا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے معاشرے میں اسلامی اقدار کے نفاذ کی کوشش کریں گے اورلوگوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ راسخ العقیدہ سلفی قرون وسطیٰ کے اسلام کے پیروکار ہیں اور وہ اس کی بنیاد پر معاشرے میں شریعت کے نفاذ کے حامی ہیں۔تیونس میں گذشتہ سال سلفیوں نے اپنے لیے پارلیمانی سیاست میں کسی کردار کی تمنا کا اظہار نہیں کیا تھا لیکن عرب ممالک میں بہاریہ تحریکوں کی کامیابی کے بعد انھوں نے اب اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے۔

مصر کے پارلیمانی انتخابات میں سلفیوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔اس کے بعد وہ دوسرے ممالک میں بھی پارلیمانی سیاست میں اپنی حصہ داری کے لیے کوشاں ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیونس میں پارلیمانی انتخابات میں اسلامی جماعت النہضہ نے کامیابی کے بعد دوسرے اسلامی گروپوں کو بھی اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے موقف پر نظرثانی کریں اور سیاست میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں۔

النہضہ نے پارلیمانی انتخابات میں کامیاب کے بعد دو سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ النہضہ کے شریک بانی اور موجودہ لیڈر شیخ راشدالغنوشی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر سلفی جماعتیں جمہوریت کو قبول کرلیتی ہیں،تو انھیں لائسنس جاری کیا جانا چاہیے اور انھیں سابق صدر زین العابدین بن علی کے دور کی طرح دیوار سے نہیں لگایا جانا چاہیے۔