اسرائیل کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی صلاحیت رکھتے ہیں: حسن نصراللہ
شام میں بغاوت مزاحمت کی کمر توڑنے کی سازش ہے
لبنان میں سرگرم اسرائیل مخالف تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم اسرائیل کے ساتھ آئندہ کسی بھی جنگ کی صورت میں تل ابیب کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کی صلاحیت کے حامل ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مزاحمت کےخلاف ایک سازش ہے۔ شامی حکومت کو کمزور کرکے فلسطین اور لبنان میں اسرائیل کےخلاف مزاحمتی طاقتوں کو کمزور کرنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔
شیخ حسن نصراللہ نے ان خیالات کا اظہار جنوبی بیروت میں سنہ 2006ء کی اسرائیلی جنگ میں تباہ ہونے والی املاک کی تعمیر نو مکمل ہونے پر ایک تقریب کے دوران اپنے حامیوں سے ایک ریکارڈ شدہ تقریر میں کیا۔
شیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ"ہم صرف تل ابیب پر حملے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ ہمارے مجاہدین ضرورت پڑنے پر اسرائیل کے کئی شہروں میں محدود پیمانے پر حملوں کی پوری صلاحیت استعمال کریں گے۔ حزب اللہ کے جنگجو مقبوضہ فلسطین کے کسی بھی حصے میں صہیونیوں کا تعاقب کر سکتے ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "وہ وقت گذر گیا جب جبراً ہمارے گھروں سے نکال دیا جاتا تھا اور غاصب ہمارے گھروں پر قبضہ کر لیتے تھے۔ وہ وقت گذر گیا جب ہمیں ھجرت پر مجبور کیا جاتا اور دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر ہماری زمینوں پر آباد کیا جاتا۔ ہمارے گھر مسمار کرنے کا دور گزر گیا۔ ان (صہیونیوں) کی مقبوضہ علاقوں سے بیدخلی اور ان کے گھروں کی بربادی کا وقت آ گیا ہے۔ وہ دور گیا جب ہم ان سے خوف زدہ تھے آج یہ ہم سے خوف زدہ ہیں۔ ہم اسی لیے کہتے ہیں کہ صہیونیوں کی مقدر میں زوال اور شکست لکھی جا چکی ہے، جس کا سامنا وہ جلد کرنے والے ہیں"۔
شام میں امریکا اور مغرب تباہی پھیلا رہے ہیں
اپنے حلیف اور دیرینہ اتحادی صدر بشار الاسد کےخلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کے بارے میں حسب معمول شیخ حسن نصراللہ نے عوامی تحریک کو امریکا اور مغرب کی سازش سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دمشق میں جمعرات کو خود کش بم دھماکے غیر ملکی سازشی ہاتھوں نے کرائے تھے۔ ان دھماکوں میں وہی عناصر ملوث ہیں جو شام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شام میں ہونے والے مسلسل حملوں اور فوج پر یلغار نے ہمارے اس یقین کو اور بھی پختہ کر دیا ہے کہ دمشق کے خلاف سازشی کھیل میں امریکا اور اسرائیل پیش پیش ہیں۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کی خواہش ہے کہ وہ شام میں لبنان اور فلسطین کے لیے مسلح مزاحمت کی سیاسی حمایت کرنے والے نظام حکومت کے تارو پود بکھیر دیں، لیکن ایسا ان کے بس میں نہیں ہے۔
حسن نصراللہ نے کہا کہ شام میں عوام کی جانب سے اصلاحات کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔ اس وقت شامی عوام کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں۔ وہ یا تو حکومت کی اصلاحات قبول کریں اور ملک کو تباہی سے بچائیں یا غیر ملکی سازشوں کا حصہ بن کر اپنے ملک کو تباہی سے دوچار کر دیں۔